Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا غیر مقلد کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے؟

کیا غیر مقلد کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے؟

موضوع: نماز  |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: یار       مقام: آسٹریا

سوال نمبر 2449:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں بیرون ملک فیملی کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد ہے جو کہ کسی دوسرے مسلک کی ہے اور بہت سے غیر مقلد بھی اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ میں عقیدے کے اعتبار سے اہل سنت ہوں، قادری اور منہاج القرآن کا لائف ممبر ہوں۔ مجھے نماز گھر پڑھنی چاہیے یا مسجد میں؟

جواب:

اگر عقیدہ خراب ہونے کا ڈر ہو پھر گھر میں نماز پڑھ لینا بہتر ہے، اگر ہو سکے تو آپ کوشش کریں کسی اہل سنت کی مسجد میں چلے جایا کریں، اگرچہ کچھ فاصلے پر بھی ہو تو کوئی بات نہیں نیک کام کے لیے نکلو گے تو زیادہ ثواب ہو گا۔ بس یہ بات مد نظر رکھیں کہ اگر کوئی بدعقیدہ شخص، صحیح العقیدہ مسلمانوں کو کافر، مشرک اور بدعتی کہے، ایسا شخص چاہے جہاں بھی ہو اس کے پیچھے نمازیں خراب نہ کرو الگ پڑھ لو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-26


Your Comments