لا علمی میں ادا کی جانے والی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:1130
مفتی صاحب مجھے یہ با ت پہلے معلوم نہیں تھی کہ فرض نماز کے آخری دو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کو ئی سورہ ملانے کی ضروت نہیں جو نمازیں میں نے اس لا علمی میں ادا کی وہ قبول ہو جائے گی؟ برائے مہربانی جماعت کھڑی ہونے کے بعد تمام رکعت میں شامل ہونے کا طریقہ بتا دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ دعائے قنوت کے بغیر وتر ادا ہو جاتے ہیں؟ شکریہ

  • سائل: عاقب غفارمقام: ساہیوال، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 08 مارچ 2012ء

زمرہ: نماز

جواب:

لاعلمی کی صورت میں پڑھی جانے والی نمازیں صحیح ہیں۔

وتر میں دعائے قنوت پڑھنا مسنون ہے، اگر دعائے قنوت نہیں آتی تو تین مرتبہ سورۃ الاخلاص یا کوئی بھی دعا پڑھ لینا جائز ہے۔ البتہ دعا قنوت پڑھنا مسنون ہے، لہذا اسے جلدی زبانی یاد کرنا چاہیے اور اس کا پڑھنا افضل ہے۔

اگر کوئی رکعت چھوٹ جائے تو کیسے ادا کریں گے؟
اس کا جواب گزر چکا ہے، مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟