Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا عام انسانوں کا میلاد منایا جاسکتا ہے؟

کیا عام انسانوں کا میلاد منایا جاسکتا ہے؟

موضوع: میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  |  سالگرہ

سوال پوچھنے والے کا نام: اسلام       مقام: ہند

سوال نمبر 919:
میلاد کی حقیقت کیا ہے؟ کیا عام انسانوں کا میلاد منایا جاسکتا ہے جیسے ماں، باپ، بھائی، بہن اور رشتے دار وغیرہ کا میلاد منایا جاسکتا ہے؟ قرآن حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔ شکریہ

جواب:
میلاد کا مطلب ہے یوم پیدائش۔

قرآن مجید میں ہے :

وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ.

اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن۔

(مَرْيَم ، 19 : 33)

آقا علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ پیر کے دن آپ روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ فرمایا

فيه ولدت.

اس دن میں پیدا ہوا تھا۔

انبیاء کرام علیہم السلام عموما اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام تمام جہانوں کے لیے خصوصی رحمت ہیں لہذا ان کی پیدائش پر میلاد منانا تو واضح ہے۔ باقی آپ نے پوچھا کہ تمام لوگوں کا میلاد منانا جائز ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سالگرہ مناتے ہیں اور کسی نے اس پر انکار نہیں کیا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ لوگ اپنی سالگرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ چونکہ اس پر کسی کا انکار نہیں ہے اس لیے یہ جائز ہے۔ اگر عام لوگوں میں بھی کوئی امت کے لیے باعث رحمت ہے تو انکے میلاد منانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔ اولیاء اللہ اور علماء کرام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے بندے اور امتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں لہذا اگر کوئی میلاد منائے تو جائز ہے اگر نہ منائے تو گناہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-25


Your Comments