کیا بینک میں کیشیر ،چوکیدار،خادم وغیرہ کی نوکری جائز ہے؟

سوال نمبر:797
کیا بینک میں کیشیر ، چوکیدار، خادم، چاے بنانے والے، اور صفائی والے کی نوکری حلال ہے ؟ اور اکاؤنٹ کھولنے والا نا تو سود لیتا ہے نا دیتا ہے۔ وہ تو صرف اکا ؤنٹ کھولتا ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

  • سائل: محمد وقاص احمدمقام: لاھور پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 18 مارچ 2011ء

زمرہ: بینکاری

جواب:

بنک میں چوکیدار ، چائے بنانے والے، صفائی کرنے والے دیگر ایسے اشخاص جنکا تعلق حساب کتاب سے نہیں ہے تو ایسے لوگوں کی نوکری جائز ہے۔

اسلیے کہ حدیث پاک میں جو مذمت آتی ہے وہ مندرجہ ذیل قسم کے لوگ ہیں۔

لکھنے والا، گواہی دینے والا، سود دینے والا اور لینے والا۔ باقی بامر مجبوری کہ اور کوئی روزگار نہیں تو کر سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ضرور بہ ضرور متبادل حلال روزگار کی تلاش جاری رکھیں اگر کسی دوسری جگہ نوکری مل سکتی ہے تو پھر بنک نوکری جائز نہیں ہے۔ PLS اکاونٹ جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟