کیا قرضہ حسنہ کے ادارے میں کام کرنا جائز ہے؟


سوال نمبر:4398
السلام علیکم مفتی صاحب! میں قرضہ حسنہ دینے والے ایک ادارے ’اخوت‘ میں ڈیٹا انٹر آپریٹر کام کرتا ہوں۔ یہ ادارہ لوگوں کو 20 سے 50 ہزار تک بلِاسود قرضہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی واپسی ماہانہ اقساط کی صورت میں قرض کی رقم کے مطابق ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر قرض کی رقم 20 ہزار ہے تو ماہانہ قسط 1250 ہوگی، اس میں‌ کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جاتے۔ قرض لینے کی درخواست کی فیس 200 روپے ہے۔ قرض کی رقم کے مطابق 1 فیصد انشورنس ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر قرض خواہ قرض کی مکمل واپسی سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کا قرض معاف کر دیا جاتا ہے اور لوحقین کو 5000 روپے کفن و دفن کے لیے دیئے جاتے ہیں۔ کیا اس ادارے میں‌ کام کرنا درست ہے؟

  • سائل: حمزہ علیمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 25 ستمبر 2017ء

زمرہ: بینکاری  |  جدید فقہی مسائل

جواب:

قرضہ حسنہ کا جو طریقہ آپ نے بیان کیا ہے یہ عامۃ الناس کے لیے نہایت مفید ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ قرضہ حسنہ کے ایسے اداروں میں کام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی