Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر بنک کی نوکری حرام ہے تو علماء اپنا اکاونٹ بنک میں کیوں رکھتے ہیں؟

اگر بنک کی نوکری حرام ہے تو علماء اپنا اکاونٹ بنک میں کیوں رکھتے ہیں؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد وقاص احمد       مقام: لاھور، پاکستان

سوال نمبر 785:
اگر بنک کی نوکری حرام ہے تو علماء اپنا اکاونٹ بنک میں کیوں رکھتے ہیں؟

جواب:
بنک میں جو شخص بھی اکاونٹ رکھتا ہے تو حفاظت کی پیش نظر رکھتا ہے۔ آج کل آپ کو پتہ ہے کہ اگر کسی کو پتا چلے کہ فلاں گھر میں اتنے لاکھ روپے ہیں تو راتوں رات ڈاکہ اور لوٹ مار یہاں تک کہ صاحب مال کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور نہ علماء کرام یا کسی اور کے اکاونٹ سے حرام حلال ہو جاتا ہے ہرگز ایسا نہیں ہے۔ فقہا نے لکھا ہے کہ اگر نمازی کو نماز کے دوران ایک درھم ضائع ہونے کا یقین ہو تو وہ نماز توڑ دے۔ جب ایک درھم کے لئیے نماز توڑنا جائز ہو تو لاکھوں روپے اگر نیت حفاظت بنک میں جمع کرادیئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر بنک کے علاوہ کوئی متبادل نظام غیر سودی موجود ہو تو ضرور اس میں رکھنے چاہئیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-17


Your Comments