جمعہ کو سعودی عرب میں‌ پہلی اذان ظہر کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے ہو جاتی ہے۔ کیا ہم جمعہ کی سنتیں پہلی اذان کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟

سوال نمبر:774
جمعہ کو سعودی عرب میں‌ پہلی اذان ظہر کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے ہو جاتی ہے یعنی 30 :‌ 11 پر، اور جونہی ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے دوسری اذان ہو جاتی ہے پھر خطاب ہوتا ہے۔ جمعہ کی نماز سے پہلے والی سنتیں کیا ہم پہلی اذان کے بعد پڑھ سکتے ہیں؟

  • سائل: ابو جنیدمقام: تلھ گنگ
  • تاریخ اشاعت: 14 مارچ 2011ء

زمرہ: نماز جمعہ

جواب:
اصل میں ہر نماز کے لیے الگ الگ وقت ہے اور اس وقت کی سنتیں فرض کے تابع ہیں۔ چاہے جمعہ ہو یا ظہر، زوال سے پہلے سنتیں ادا کرنا جائز نہیں ہے۔جونہی ظہر کا وقت داخل ہو گا (اگرچہ اذان ابھی نہیں ہوئی ہو) آپ سنتیں ادا کرسکتے ہیں۔

زوال کے بعد ظہر کا وقت داخل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد جمعہ یا ظہر کی سنتیں پڑھ سکتے ہیں پہلے نہیں۔

یہ واضح ہوا کہ اذان صرف ایک علامت ہے کہ وقت داخل ہو گیا ہے۔ آپ وہاں سے معلوم کر لیں، دخول وقت سے پہلے اذان نہیں ہو گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہو۔ بہرحال اذان پہلے ہو یا بعد میں وقت داخل ہونے پر نماز ادا کرسکتے ہیں۔ (کتب فقہ)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟