اگر ورثاء میں بیوی، بیٹیاں اور بہن بھائی ہوں تو ترکہ کی تقسیم کیا ہوگی؟

سوال نمبر:5803
السلام علیکم! ایک شخص کی صرف بیٹیاں اور بیوی ہے اُس کے بہن بھائی بھی ہیں۔ کیا انتقال کے بعد جائیداد میں بیوی بیٹیوں کے علاوہ بہن و بھائ کا بھی حصہ ہوتا ہے؟ اور کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

  • سائل: رفیع الدینمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 28 اکتوبر 2020ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

تقسیمِ وراثت کے شرعی اصول کسی شخص کی موت کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں جن کے مطابق فوت شدہ کے ترکہ سے اُس کی تجہیز و تدفین، قرض (اگر ہو تو اس) کی ادائیگی اور وصیت (اگر ہو تو) زیادہ سے زیادہ ایک تہائی سے پوری کرنے کے بعد فوت شدہ کی باقی قابلِ تقسیم جائیداد ورثاء میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیتی جائیداد تقسیم کر رہا ہے تو اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ جس عزیز کو جتنا چاہے دے سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی عزیز کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

سائل کے بقول کسی شخص کے ورثاء میں بیوی، بیٹیاں اور بہن بھائی شامل ہیں، اس لیے اس کے کل قابلِ تقسیم ترکہ سے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔

النساء، 4: 12

اگر صرف ایک بیٹی ہو تو والد کے ترکہ سے نصف (1/2) پائے گی، ایک سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو دوتہائی (2/3) میں برابر شریک ہوں گی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لئے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے۔

النساء، 4: 11

مسئلہ ہٰذا میں ایک سے زائد بیٹیاں اس لیے اس لیے مذکورہ شخص کے کل قابلِ تقسیم ترکہ میں سے دو تہائی میں برابر شریک ہوں گی۔ آٹھواں حصہ بیوی کو اور دو تہائی بیٹیوں کو دینے کے بعد بقیہ وراثت بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ.

میراث اُس کے حق دار لوگوں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الفرائض، باب ميراث الولد من أبيه وأمه، 6: 2476، رقم: 6351، دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب الفرائض، باب ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فلأولى رجل ذكر، 3: 1233، رقم: 1615، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث

قریبی مردوں میں سے جب بھائی ہو تو اس کے ساتھ بہن بھی حصہ پاتی ہے۔ اس لیے بقیہ جائیداد بھائی اور بہن میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بھائی کوئی دو حصے ملیں گے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟