عقائد و اعمال میں بگاڑ کیونکر پیدا ہوتا ہے؟

سوال نمبر:5727
عقائد اور اعمال میں بگاڑ کیسے پیدا ہوتا ہے.؟

  • سائل: محمد وسیم شاہدمقام: چکوال
  • تاریخ اشاعت: 16 جولائی 2020ء

زمرہ: عقائد

جواب:

انسان کا وجود جسم اور روح دونوں کا مرکب ہے جسم اور روح دونوں کے الگ الگ تقاضے ہیں اور یہ تقاضے ان کی فطری اور طبعی صلاحیتوں کے مطابق ہیں انسانی جسم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اور مٹی میں پستی و گھٹیا پن، ضلالت، گمراہی، حیوانیت و بہیمیت، شیطانیت اور سرکشی جیسی خاصیتیں پائی جاتی ہیں اسی لیے نفسِ انسانی فطری طور پر برائیوں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے۔ گویا گناہوں کی آلودگیاں اور حق سے انحراف نفسِ انسانی کی فطرت میں شامل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ.

بےشک نفس تو برائیوں کا ہی حکم دیتا ہے۔

يوسف، 12: 53

لیکن دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے روح کی صورت میں انسان کے اندر ایک لطیف و نورانی ملکہ بھی و دیعت کر دیا ہے جس کے تقاضے بدی و نیکی کی تمیز، حق پرستی، صداقت و امانت اور نفس کی تہذیب و تطہیر سے پورے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَاO

پس ( اللہ تعالیٰ) نے نفس انسانی کے اندر برائی او ر اچھائی دونوں کا شعور ودیعت کردیا ہے۔

الشمس، 91: 8

اور ایک اور مقام پر یوں ارشاد فرمایا:

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِO

اور ہم نے (انسان کو نیکی اوربدی کے) دونوں راستے دکھا دیئے ہیں۔

البلد، 90: 10

گویا انسان کے اندر برائی اور اچھائی، بدی و نیکی، خیرو شر دونوں طرح کے میلانات ازل سے ودیعت کر دیئے گئے۔

ان دونوں کے درمیان تضاد، تصادم اور ٹکراؤ کی کيفیت قائم رہتی ہے اور جب تک یہ کشمکش قائم رہے انسان کی زندگی عجیب قسم کے تضادات اور بگاڑ کا شکار رہتی ہے۔ اسی بگاڑ سے بے راہ روی، ظلم و استحصال، فسق و فجور جنم لیتے ہیں انسانی شخصیت اپنے اندرونی انتشار کی وجہ سے بے سکون و بے اطمینان رہتی ہے۔ یہی کیفیت انسان کے اعمال و عقائد میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورتحال کے تدارک کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسم امت رہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.

میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی کی سنت۔

  1. مالك، الموطأ، کتاب: القدر، باب: النهي عن القول بالقدر، 2: 899، الرقم: 1594، مصر: دار إحياء التراث العربي
  2. حاكم، المستدرك على الصحيحين، 1: 172، الرقم: 319، بيروت: دار الكتب العلمية

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور درج ذیل روایات میں قرآن مجید اور اہل بیت اطہار کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حضرت زید بن اَرقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

قَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومًا فِيْنَا خَطِيْبًا. بِمَاءٍ يُدْعَی خُمًّا (بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ)، فَحَمِدَ ﷲَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَکَّرَ. ثُمَّ قَالَ: أَنَا تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا: کِتَابُ اللہِ فِيْهِ الْهُدَی وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِکِتَابِ اللہِ وَاسْتَمْسِکُوا بِهِ. فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللہِ وَرَغَّبَ فِيْهِ. ثُمَّ قَالَ: وَ أَهْلُ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ ﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ ﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ ﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي.

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے مدینہ و مکہ کے درمیان اس تالاب پر کھڑے ہوئے جسے خُم کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت و نورہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب پرعمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ (کے اَحکامات پر عمل کرنے پر) اُبھارا اور اس کی طرف ترغیب دلائی۔ اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہلِ بیت ہیں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ سے ڈراتا ہوں۔

  1. مسلم، الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة رضی الله عنهم، باب: من فضائل علي بن أبي طالب رضی الله عنه، 4: 1873، الرقم: 2408، بيروت: دار إحياء التراث العربي
  2. نسائي، السنن الکبرى، كتاب: المناقب، باب: العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه، 5: 51، الرقم: 8175، بيروت، دار الكتب العلمية
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 4 / 366، مصر: مؤسسة قرطبة

ایک روایت میں حضرت حبیب بن ابو ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ دونوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

عَنْ حَبِيْبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ ﷲُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي. وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا.

میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک بندھی ہوئی رسی کی طرح ہے؛ اور میری عترت یعنی اہلِ بیت ہیں۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ یہ دونوں اکٹھے میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔

  1. ترمذي، السنن، کتاب: المناقب، عن رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم، 5: 663، الرقم: 3788، بيروت: دار إحياء التراث العربي
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 17، الرقم: 11147

ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ٹوک الفاظ میں گمراہی کے تدارک کا لائحہ عمل بھی بتا دیا ہے۔ اس لیے جو مسلمان کتاب و سنت اور عترتِ رسول سے دور ہوجائے تو عقائد و اعمال میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟