حدیث قرطاس اور باغ فدک کے حقائق کیا ہیں؟


سوال نمبر:2879
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ حدیث قرطاس اور باغ فدک کے حقائق بتائیں؟

  • سائل: اسد قیوم سبحانیمقام: گلگت
  • تاریخ اشاعت: 27 نومبر 2014ء

زمرہ: عقائد

جواب:

حدیث قرطاس کا پس منظر اور مفہوم احادیث مبارکہ میں یوں ہے کہ:

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اﷲِ وَجَعُه فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَه أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِیٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأنُه أَهجَرَ اسْتَفْهمُوه فَذَهبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْه فَقَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيه خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْه وَأَوْصَهمْ بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَة الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهمْ وَسَکَتَ عَنِ الثَّالِثَة أَوْ قَالَ فَنَسِيتُها.

’’حضرت سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے بتایا کہ جمعرات! اور جمعرات کا روز کیا ہے؟ اس روز رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کرگئی تھی۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لکھنے کی چیزیں لاکر دو تاکہ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوسکو۔ کچھ لوگ جھگڑنے لگے، حالانکہ نبی کی بارگاہ میں جھگڑنا مناسب نہ تھا۔ بعض حضرات کہنے لگے کہ شاید آپ بیماری کے باعث ایسا فرما رہے ہیں۔ پس انہوں نے دوبارہ جاکر دریافت کیا، تو فرمایا اس بات کو جانے دو۔ جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی جانب تم بلا رہے ہو، اور آپ نے انہیں تین باتوں کی وصیت فرمائی (1) مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔ (2)سفیروں کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کرنا جیسے میں کرتا تھا۔ تیسری وصیت سے وہ خاموش ہوگئے یا فرمایا کہ میں بھول گیا۔‘‘

بخاری، الصحيح، 4: 1612 ، الرقم: 4168، دار ابن کثير، اليمامة، بيروت

دوسری روایت میں ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهمَا قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اﷲِ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ هلُمُّوا أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَه فَقَالَ بَعْضُهمْ إِنَّ رَسُولَ اﷲِ قَدْ غَلَبَه الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اﷲِ فَاخْتَلَفَ أَهلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَکْتُبُ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَه وَمِنْهمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِکَ فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ قُومُوا قَالَ عُبَيْدُ اﷲِ فَکَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الرَّزِيَة کُلَّ الرَّزِيَة مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اﷲِ وَبَيْنَ أَنْ يَکْتُبَ لَهمْ ذَلِکَ الْکِتَابَ لِاخْتِلَافِهمْ وَلَغَطِهمْ.

’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو کاشانہ رسالت میں کافی لوگ جمع تھے۔ اس وقت نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری نزدیک آجاؤ۔ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دیتا ہوں تاکہ میرے بعد تم گمراہی سے بچے رہو۔ بعض حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شدتِ مرض کے باعث ایسا فرما رہے ہیں۔ جبکہ قرآن کریم تمہارے پاس موجود ہے، تو ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ پس اہل بیت نے اس خیال سے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے۔ بعض حضرات کہنے لگے کہ نزدیک جاکر تحریر لکھوالی جائے تاکہ ہم بعد میں گمراہی سے بچے رہیں، اور بعض حضرات نے کچھ اور رائے پیش کی۔ جب یہ بیکار اختلاف بڑھ گیا تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے اُٹھ جاؤ۔ عبیداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس فرمایا کرتے کہ یہ کتنی بڑی مصیبت آ پڑی تھی کہ بعض حضرات اختلاف اور بیکار گفتگو کر کے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جس تحریر کو لکھنے کے لئے آپ فرماتے تھے، اس کے درمیان حائل ہوگئے‘‘۔

بخاری، الصحيح، 4: 1612، الرقم: 4169

یہاں چند باتیں قابل غور ہیں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض وصال میں جمعرات کے دن کاغذ و قلم مانگا اس کے بعد پانچویں دن یعنی بروز سوموار آپ کا وصال ہوا اگر یہ تحریر لکھنا ضروری ہوتا تو اتنے وقفہ میں کسی بھی وقت لکھ سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا۔

آپ نے کاغذ قلم اہل بیت سے مانگا تھا تو وہ لاتے، اس میں شور و غل کی کیا ضرورت تھی؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پیش کرتیں، ازواج مطہرات پیش کرتیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ لاتے۔ ان میں سے بعض حضرات نے قلم کاغذ لانے کی بجائے اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا، جس سے سرکار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناراض ہو کر فرمایا ’’اٹھ کر چلے جاؤ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے، حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینا مناسب نہیں۔ لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر برستے ہیں کہ انہوں نے رکاوٹ کیوں ڈالی؟ جواب یہ ہے کہ گھر والے یعنی حضرت علی، حضرت عباس، سیدہ فاطمہ یا امہات المؤمنین میں سے کوئی قلم کاغذ لے آتا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا کوئی اور مزاحمت کرتا تو اس کے خلاف فرد جرم عائد کرتے۔ نہ اہل خانہ قلم کاغذ لائے، نہ کسی نے رکاوٹ ڈالی پھر الزام کیسا؟ کسی بھی گھر کا بزرگ ترین یا عام فرد شدید بیمار ہو مرض موت میں کسی چیز کا مطالبہ کرے مثلاً پانی پلاؤ!۔ دوائی لاؤ! فلاں کو بلاؤ! کھانا کھلاؤ! ہسپتال لے جاؤ! ڈاکٹر کو بلاؤ! وغیرہ تو یہ مطالبہ بیمار پرسی کرنیوالوں سے نہیں اہل خانہ سے ہوتا ہے گھر والے عمل کریں، یا نہ کریں ان پر منحصر ہے۔

حضور کیا لکھوانا چاہتے تھے؟

عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَکَی حَتَّی بَلَّ دَمْعُه الْحَصَی فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اﷲِ وَجَعُه فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِیٍّ تَنَازُعٌ وَقَالُوا مَا شَأْنُه أَهجَرَ اسْتَفْهمُوه قَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيه خَيْرٌ أُوصِيکُمْ بِثَلَاثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَة الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهمْ قَالَ وَسَکَتَ عَنْ الثَّالِثَة أَوْ قَالَها فَأُنْسِيتُها.

’’سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ جمعرات کا دن بھی کس قدر ہولناک دن تھا، جمعرات کا دن! پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر روئے کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہوگئیں۔ میں نے کہا اے ابن عباس! جمعرات کے دن کیا واقعہ ہوا تھا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درد زیادہ ہوگیا تھا۔ آپ نے فرمایا قلم اور کاغذ لاؤ، میں تم کو ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے (قلم اور کاغذ کے متعلق) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپس میں اختلاف کرنے لگے، اور نبی کے پاس اختلاف مناسب نہیں تھا۔ صحابہ نے کہا کیا سبب ہے؟ کیا آپ الوداع ہورہے ہیں؟ آپ سے پوچھو! آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو، میں جس حال میں ہوں وہ بہتر ہے۔ میں تم کو تین چیزوں کی وصیت کر رہا ہوں، مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، وفود کی اس طرح عزت کیا کرو جس طرح میں عزت کرتا ہوں، تیسری بات سے حضرت ابن عباس خاموش ہوگئے یا انہوں نے بیان کی تھی اور میں بھول گیا‘‘۔

مسلم، الصحيح، 3: 1257، الرقم: 1637، دار احياء التراث العربی، بيروت

اور کیا لکھوانا چاہتے تھے؟

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَة وَا رَأْسَه فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ ذَاکِ لَوْ کَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَکِ وَأَدْعُوَ لَکِ فَقَالَتْ عَائِشَة وَا ثُکْلِيَه وَاﷲِ إِنِّي لَأَظُنُّکَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ کَانَ ذَاکَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِکَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ بَلْ أَنَا وَا رَأْسَه لَقَدْ همَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ وَابْنِه وَأَعْهدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَی اﷲُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اﷲُ وَيَأْبَی الْمُؤْمِنُونَ.

’’قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما نے کہا: ہائے سر پھٹا تو رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کاش! میری زندگی میں ایسا ہوجاتا تو میں تمہارے لیے استغفار کرتا اور دعا مانگتا۔ حضرت عائشہ عرض گزار ہوئیں : ہائے مصیبت! خدا کی قسم! کیا میں گمان کروں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں، اور اگر ایسا ہوگیا تو آپ دوسرا دن اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس گزاریں گے۔ اسی پر حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔ لہٰذا میرا فیصلہ ہوا یا میں نے ارادہ کیا کہ ابو بکر اور ان کے صاحبزادے کو بلا بھیجوں اور ان سے عہدِ خلافت لوں ورنہ کہنے والے جو چاہیں کہیں گے اور خواہش کرنے والے خواہش کریں گے۔ پھر میں نے کہا (کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ) اﷲتعالیٰ اس کے خلاف نہیں چاہتا اور مسلمان اس کی مخالفت کو ہٹا دیں گے یا اﷲ مخالف کو ہٹا دے گا اور مسلمان کسی دوسرے کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔

بخاري، الصحيح، 5: 2145، الرقم: 5342

خلاصہ کلام:

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری بیماری میں قلم کاغذ منگوائے۔ حاضرین میں سے بعض نے لانے کو کہا بعض نے اس وقت لانا مناسب نہ سمجھا اس بحث مباحثہ میں آوازیں بلند ہوئیں سرکار نے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیکر سب کو خاموش کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں کتاب اللہ (القرآن) کافی ہے، بعض صحابہ مثلاً حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر یہ طرز عمل بہت ناگوار گزرا مگر قلم کاغذ کسی نے پیش نہیں کیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت آپ کو تکلیف دینے کو مناسب نہ سمجھا گیا اس کے بعد پانچ دن حضورصلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات رہے مگر دوبارہ قلم کاغذ نہ مانگا جس کا مطلب ہے کہ تحریر ضروری نہ تھی جو فرمانا تھا آخر وقت تک فرماتے رہے۔ امت نے اس کو سنا سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ اگر یہ تحریر لازمی ہوتی تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے نبی ہیں کسی کے ماننے یا انکار کی پرواہ کئے بغیر لکھوا سکتے تھے۔ کسی کی مجال تھی کہ رکاوٹ ڈالتا؟ جب ساری دنیا مخالف اور دشمن تھی، اس وقت تو سرکار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی مخالفت کی پرواہ نہ کی اب تو سارے جان قربان کرنے والے فدائی تھے، کس کی جرات تھی کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارادے میں حائل ہوتا؟ یہ ہے حدیث قرطاس کا پس منظر اور مفہوم۔

مزید وضاحت کے لیے ’دفاعِ شانِ شیخین‘ کے موضوع پر ہونے والے شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کے خطابات سماعت فرمائیں:

حقیقتِ حدیثِ قرطاس 1

حقیقتِ حدیثِ قرطاس 2

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی