Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

موضوع: عبادات  |  روزہ

سوال نمبر 567:
حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

جواب:

:  حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دن کے روزوں سے منع فرمایا ہے۔ ان میں عید الفطر، عید الاضحی اور ایامِ تشریق کے تین دن شامل ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی کے متعلق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

نَهی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ :  يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَی۔

أبوداؤد، السنن، کتاب الصيام، باب فی صوم العيدين، 2 : 314، رقم :  2417

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزے رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

ایام تشریق یعنی ذوالحجہ کے گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں تاریخ کے ایام کے بارے میں حضرت نبیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : 

’’ایامِ تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘

 مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب تحريم صوم ايام التشريق، 2 :  800، رقم :  1141

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments