حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:567
حرام روزے سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  روزہ

جواب:

:  حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دن کے روزوں سے منع فرمایا ہے۔ ان میں عید الفطر، عید الاضحی اور ایامِ تشریق کے تین دن شامل ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی کے متعلق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

نَهی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ :  يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَی۔

أبوداؤد، السنن، کتاب الصيام، باب فی صوم العيدين، 2 : 314، رقم :  2417

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزے رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

ایام تشریق یعنی ذوالحجہ کے گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں تاریخ کے ایام کے بارے میں حضرت نبیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : 

’’ایامِ تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘

 مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب تحريم صوم ايام التشريق، 2 :  800، رقم :  1141

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟