Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر مطلع صاف نہ ہو تو پھر کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟

اگر مطلع صاف نہ ہو تو پھر کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟

موضوع: روزہ  |  عبادات  |  مسئلہ روئیت ہلال   |  شہادت(گواہی)

سوال نمبر 549:
اگر مطلع صاف نہ ہو تو پھر کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟

جواب:

:  اگر مطلع صاف نہ ہو یعنی آسمان پر بادل، دھواں، گرد و غبار کا اثر ہو تو رمضان المبارک کے چاند کے لئے ایک دیندار، پرہیزگار اور سچے آدمی کی گواہی معتبر ہے چاہے مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام۔ اسی طرح جس شخص کا فاسق ہونا ظاہر نہیں اور ظاہر میں دیندار پرہیزگار معلوم ہوتا ہو اس کی گواہی بھی معتبر ہے۔ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ کہتے ہیں :  ایک بار لوگوں کو ہلالِ رمضان میں شک ہو گی۔ ان کا ارادہ ہو گیا کہ تراویح پڑھیں گے نہ روزہ رکھیں گے کہ اچانک حرہ سے ایک اعرابی آیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی۔ اس کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمای :  کیا تو اﷲ کے وحدہ لاشریک ہونے اور میرے رسول اﷲ ہونے کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہ :  ہاں اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو اعلان کرنے کا حکم دی۔ سو بلال نے یہ اعلان کیا کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔

ابوداؤد، السنن، کتاب الصيام، باب فی شهادة الواحد علی رؤية هلال رمضان، 2 : 289، رقم :  2341

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments