قصر نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

سوال نمبر:497
قصر نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 27 جنوری 2011ء

زمرہ: مسافر کی نماز

جواب:

نماز قصر کرنے کا طریقہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضر اور سفر میں نمازیں پڑھی ہیں میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر چار رکعت پڑھی اس کے بعد دو رکعت سنت اور سفر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر دو رکعت پڑھی اور اس کے بعد دو رکعت سنت ادا کی۔ اور (سفر میں) عصر کی نماز دو رکعت ادا کی اس کے بعد آپ نے کچھ نہ پڑھا مغرب کی نماز سفر اور حضر میں تین رکعتیں ادا کیں اور آپ سفر و حضر میں مغرب کے فرائض تین سے کم ادا نہیں فرماتے تھے اور یہ دن کے وتر ہیں اور اس کے بعد دو رکعت ادا فرماتے۔ وتر اور سنتوں میں قصر نہیں۔

ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب السفر، باب ما جاء فی التطوع فی السفر، 1: 554، رقم: 552

کسی مسافر کی دوران سفر اگر نمازیں قضا ہو جائیں تو مقیم ہونے پر بھی چار رکعات والی نمازوں کی دو دو رکعات قصر کر کے قضا پڑھے اور اگر سفر سے پہلے ان میں سے کوئی نماز قضا ہوئی تو سفر کی حالت میں چار رکعات قضاء پڑھے (دونوں صورتوں میں عشاء کے تین وتر بھی پڑھے جائیں گے)۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟