کیا بیوی کے مطالبہ پر دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے؟

سوال نمبر:4809
جھگڑے کے دوران بیوی نے کہا کہ تین مرتبہ طلاق کہو۔ شوہر نے کہا: طلاق، طلاق، طلاق۔تم جیسی بدتمیز عورت کو طلاق دے کر فارغ کر دینا چاہیے۔ کیا ایسا کہنے کا کیا حکم ہے؟ طلاق ہوئی یا نہیں؟

  • سائل: عثمان حجازیمقام: گوجرانوالہ
  • تاریخ اشاعت: 09 اپریل 2018ء

زمرہ: طلاق

جواب:

صورتِ‌ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوہر نے ہوش و حواس میں طلاق دی ہے کیونکہ بیوی نے طلاقِ‌ ثلاثہ (تین طلاق) کا مطالبہ کیا اور شوہر نے تین طلاق دے دیں، طلاق واقع نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں‌ ہے۔ اس لیے شوہر کے جملے سے طلاقِ مغلظہ واقع ہو چکی ہے۔ میاں‌ بیوی ایک دوسرے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہیں اِلاّ یہ کہ بیوی کہیں دوسری جگہ شادی کرتی ہے اور کسی وجہ سے وہ نکاح‌ بھی قائم نہیں‌ رہتا تو اسی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟