Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک میں سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت جائز ہے؟

کیا بینک میں سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت جائز ہے؟

موضوع: بینک کی ملازمت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ریاض       مقام: پاکستان

سوال نمبر 4617:
میں پاک آرمی کا ریٹائرڈ سپاہی ہوں اور اس وقت ایک سیکیورٹی کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میری ڈیوٹی زرعی ترقیاتی بینک کی سیکیورٹی کی ہے۔ اب جبکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ سیکیورٹی کمپنی بینک نے خود بنوائی ہے یا اس کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے۔ میری تنخواہ اور دیگر مراعات سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے ہی آتی ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ میں نوکری کرتے ہوئے کہیں سودی کاروبار میں ملوث تو نہیں۔ کیا میرا اس سیکیورٹی کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟ براہ مہربانی یہ بھی مد نظر رکھا جائے کہ اس وقت میری پنشن 9000 اور تنخواہ 20000 ہے اس کے علاوہ ایک پارٹ ٹائم کاروبار (ٹکی ٹافی کی سپلائی) سے کم و بیش 6000 ماہانہ مل جاتا ہے۔ جبکہ میرے گھر کے کھانے پینے کے ماہانہ اخراجات 15 سے 20 ہزار ہیں اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ میں بہت ہی ذہنی خلش میں مبتلا ہوں کہ کہیں میں سود میں ملوث تو نہیں اور یہ کہ میں یہ نوکری جاری رکھ سکتا ہوں کہ نہیں؟

جواب:

بینک سودی معیشت کے بنیادی ادارے ہیں جن میں کام کرنا بلاشبہ کراہت سے خالی نہیں، تاہم بینک میں سکیورٹی گارڈ، خانساماں، آفس بوائے، صفائی کرنے والا عملہ اور دیگر ایسے شعبے جن کا تعلق حساب کتاب سے نہیں ہے ان کی ملازمت جائز ہے۔ آپ بھی اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں، بینک میں‌ سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-01-18


Your Comments