Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مسجد کی عدم موجودگی میں‌ نماز کیلئے کمرہ مختص کرنا کیسا ہے؟

مسجد کی عدم موجودگی میں‌ نماز کیلئے کمرہ مختص کرنا کیسا ہے؟

موضوع: مسجد   |  مسجدکےاحکام

سوال پوچھنے والے کا نام: امیر نواز خان       مقام: چین

سوال نمبر 4261:
السلام علیکم! مفتی صاحب میں چین میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ ہمارے ادارے میں 200 کے قریب مسلمان رہتے ہیں۔اب تک یورنیورسٹی (آفس) والوں نے ہم کو مسجد بنانے کے لیے جگہ دی مگر اب واپس لے لی اور اب وہ کہتے ہیں کہ ایک کمرے میں نماز ادا کرو اور نماز جمعہ میں لوگ زیادہ ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ یہاں نماز ادا نہ کرو۔ جو شہر کی بڑی مسجد ہے وہ ہم سے تقریباً 10 منٹ کی دوری پر ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرما دیں کہ ہم ایسی صورت میں کیا کریں؟

جواب:

آپ تمام قانونی ضابطوں‌ کے ساتھ مسجد کے قیام کی کوشش جاری رکھیں اور اس دوران مذکورہ کمرے میں نمازیں‌ ادا کرتے رہیں۔ نمازِ جمعہ کے لیے جامع مسجد جانا ہی زیادہ افضل ہے۔ جب یونیورسٹی میں مسجد کے قیام کے لیے جگہ مل جائے تو مستقل امام و خطیب کا بندوبست کر کے نمازِ جمعہ بھی شروع کر لیجیے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-12-08


Your Comments