مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4171

السلام علیکم مفتی صاحب! براہِ کرم مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: محمد سلیم پاکستانیمقام: الہ آباد
  • تاریخ اشاعت: 28 فروری 2017ء

زمرہ: مسجد کے احکام و آداب

جواب:

نماز جنازہ ادا کرتے وقت میت کی چارپائی رکھنے کے لئے اگر مسجد سے باہر جگہ بنالی جائے اور باقی نمازی مسجد میں بھی کھڑے ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ میت کو مسجد سے باہر اس لئے رکھتے ہیں کہ مسجد میں تلویت نہ ہو۔ اگر تلویث مسجد کا خطرہ نہیں میت صحیح حالت میں ہے تو مسجد میں میت رکھ کر نماز جنازہ ادا کرنا بھی جائز ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ اگر ایک عبادت گاہ سے دیگر دینی کام بھی بلا کسی شرعی خرابی کے لئے جانے ممکن ہو تو ضرور لیں۔ شرعاً پوری گنجائش ہے۔

عن ابی سلمه بن عبدالرحمن ان عائشه لما توفی سعد بن ابی وقاص ص قالت ادخلوا به المسجد صلی عليه فانکر ذلک عليھا فقالت واﷲ لقد صلی رسول اﷲ صلی الله وليه وآله وسلم علی ابن بيضاء فی المسجد هيل واحيه.

ابو سلمہ بن عبدالرحمن ص سے روایت ہے جب حضرت سعد بن ابی وقاص ص کی وفات ہوئی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا انہیں مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی ان پر نمازِ جنازہ پڑھ سکوں۔ اس پر انکار کیا گیا۔ آپ نے فرمایا، خدا کی قسم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی پر مسجد میں نمازِ جنازء پڑھی ہے۔

مسلم: 973، ابوداؤد: 3189، ترمذی: 1033، نسائی: 1968

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اشعہ اللمحات میں لکھا ہے کہ مسجد میں جنازہ مکروہ تنزیہی ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ تمام ازدواج مطہرات کے مطالبہ پر حضرت سعد ص کا جنازہ مسجد میں ادا کیا گیا، ان عصمت مابوں کو جب خبر پہنچی کہ لوگوں نے اسر برا کہا اور کہا کہ جنازے مسجدوں میں داخل نہیں کیے جاتے، حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا:

ما اسرع الناس الی ان اجيبوا ما لا علم لهم به عابوا عنيا ان يمر بجنازه في المسجد وما صلی رسول اﷲ  صلی الله عليه وآله وسلم علی سهيل بن بيضاء الافی جوف المسجد.

مسلم، 1: 333

’’لوگ جس بات کو جانتے نہیں کتنی جلدی اس پر عیب لگا دیتے ہیں۔ ہم پر عیب لگا کہ مسجد میں جنازہ لایا گیا ہے۔ حالانکہ سہیل بن بیضاء پر رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ہی تو نماز جنازہ ادا فرمایا تھا۔‘‘

علامہ نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’اس حدیث میں امام شافعی اور اکثر ائمہ کی دلیل ہے جو مسجد میں نمازِ جنازہ جائز قرار دیتے ہیں، یہ مذہب ہے امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے حبیب مالک، ابن ابی ذئب کو حنفیہ اور امام مالک (مشہور قول کے مطابق) کے نزدیک نماز جنازہ مسجد میں جائز نہیں۔‘‘

ان حضرات کی دلیل سنن داؤد کی یہ حدیث پاک ہے۔

مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَةٍ فِیْ الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَئٌی.

’’جس نے مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی اسے کوئی ثواب نہیں ملتا۔‘‘

جائز قرار دینے والوں نے اس حدیث کے چند جواب دیئے ہیں پہلا یہ کہ حدیث ضعیف ہے اس سے استدلال درست نہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے اولاً اس میں صالح موتی التوہنہ متفرد ہے جو ضعیف ہے، ثانیاً ابوداؤد کے مشہور محققہ نسخوں میں یہ حدیث اس طرح ہے۔

من صلی علی جنازة فی المسجد فلا شئی عليه.

’’جس نے مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی اس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘

پس مانعین کی دلیل نہ رہی۔ ثالثاً فلا شئی لہ‘’ بھی ہو تو اس کی تاویل فلا شئی علیہ سے کرنا ضروری ہے ان دونوں روایتوں میں تطبیق ہو جائے۔ اور قرآن میں ’’لھا‘‘ بمعنی علیھا آیا ہے جیسے ان ساتم ۔ رابعاً اس حدیث کا مطلب ہے کہ جو شخص مسجد میں جنازہ پڑھ کر واپس آجائے اور قبر تک ہمراہ نہ جائے اور دفن کرنے میں شریک نہ ہو کہ ترک سنت ہے۔

اور ایک روایت میں ہے جب میت مسجد سے باہر ہو اور لوگ مسجد کے اندر، تو نماز مکروہ نہیں۔ اگر ممانعت کی علت تلویث مسجد کے خوف ہو، تو پھر اس صورت میں مکروہ نہ ہو گی جب میت مسجد سے باہر ہو صرف جنازہ یا کچھ نماز بھی۔ شرح معینہ میں ہے۔

اليه مال في المبسوط المحيط و عليه العمل وهو المختار.

’’مبسوط اور محیط میں اسی طرف مصنف نے میلان ظاہر کیا ہے، اس پر عمل ہے اور یہی مذہ مختار ہے۔‘‘

بلکہ غایتہ البیان اور عنایہ میں ہے کہ (مسجد میں نمازِ جنازہ) بالااتفاق مکروہ نہیں۔ علامہ شامی تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس میں کوئی شک نہیںکہ میت پر نماز پڑھنا دعا اور ذکر ہے، اور یہ دونوں باتیں مسجد بنانے کے اسباب میں سے ہیں۔ ورنہ لازم آئے تاکہ مسجد میں دعائے استسقاء اور کسوف وغیرہ بھی منع ہو… علامہ شامی مزید فرماتے ہیں ’’فی المسجد‘‘ میں احتمال ہے کہ یہ (صلی) کے لئے ہو یا میت کے لئے یا دونوں کے لئے پہلی صوت میں جب میت مسجد میں ہو اور نماز باہر پڑھی جائے تو مکروہ نہ ہونی چاہیے۔ اور تینوں صورتیں مذہب (حرمت تحریمہ) کے خلاف ہیں۔ بحر الرائق میں یہ جواب دیا گیا ہ یکہ جب کسی ایک احتمال پر دلیل قائم ہو تو علماء نے کوئی بھی صورت کو اسے مکروہ قرار دے دیا۔

اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں:

يلنع عليه اثبات الکراهه بلا دليل انه انطرقه الاحتمال سقط به الاستدلال

شامي، 2: 225

’’اس صورت میں لازم آئے گا کہ کسی دلیل شرعی کے بغیر ہی کراہت فرط ثابت کردی جائے۔ کیونکہ جہاں اتنے احتمالات نکل ائے تو (کسی ایک پر) دلیل پکڑنا غلط ہو گیا۔‘‘

ان تمام دلائل و حوالاجات کو دیکھتے ہوئے یہی بات حق ہے کہ میت کی حالت غیر ہو مثلاً جسم سے خون پیپ پانی وغیرہ نکل رہا ہے یا کسی اور طرح سے تلویث مسجد کا ڈر ہو جائے اور مسجد سے باہر رکھ کر جنازہ ادا کیا جائے خواہ نمازی باہر ہوں خواہ اندر، اور اگر میت کی حالت نارمل ہے اور تلویث مسجد کا کوئی امکان نہیں تو نماز جنازہ بلا کراہت مسجد میں جائز ہے۔ مسلمان قابل احترام ہے زندہ ہو یا مردہ۔ اگر اس کا جسم صاف نہ ہو تو مسجد اس کا آنا جائز نہیں خواہ زندہ ہو جیسے جنبی، حائض، نفساء یا وہ میت جس کے جسم سے کچھ نکلتا ہو یا بدبو آنے لگے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟