Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - علامہ اقبال کی نظموں‌ ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا کیا حکم ہے؟

علامہ اقبال کی نظموں‌ ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا کیا حکم ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: عمر جاوید       مقام: لاہور

سوال نمبر 3835:
بعض لوگ علامہ اقبالؒ کی شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظموں کو غیر شرعی اور کفریہ قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں راہنمائی درکار ہے؟

جواب:

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ نہ تو کفریہ شاعری پر مبنی ہیں اور نہ ہی ان کے پڑھنے میں کوئی شرعی قباحت ہے۔ علامہ نے شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ پیش کیا ہے، جبکہ جواب شکوہ میں اس تنزلی کے اسباب بیان کیے ہیں۔ شکوہ اور جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کی فکری و اعتقادی گمراہیوں، اخلاقی کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بےنقاب کیا ہے۔ ان نظموں کی اثرانگیزی بےمثال ہے، یہی وجہ ہے کہ ان نظموں کو پڑھنے اور سننے والا تڑپ اٹھتا ہے۔ غلو، انتہاپسندی اور تکفیر سے اجتناب کرتے ہوئے ہمیں‌ اس پیغام کو سمجھنا چاہیے جو علامہ اقبال نے ان نظموں‌ میں دیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-03-14


Your Comments