کیا طلاق کے ساتھ عدد ذکر کرنا ضروری ہے؟

سوال نمبر:3509

السلام علیکم مفتی صاحب! ایک طلاق کا قرینہ درج ذیل ہے:

گھر میں گھریلو لڑائی جھگڑاہوا۔ لڑائی کے دوران بیوی کا پہلے ساس پھر شوہر کے ساتھ تقرار ہوا۔ بیوی کہتی ہے! کہ شوہر نے کہا کیا تمھیں طلاق چاہیے؟ میں نے (یعنی بیوی) نے کہا ’’مرد بَن دے طلاق۔‘‘ اس کے جواب میں شوہر نے کہا ’’میں تمھیں طلاق دیتا ہوں، میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔‘‘ شوہر نے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے۔ شوہر کو ندامت ہوئی تو اس نے کہا رجوع کر لیں گے کچھ حل نکالتے ہیں۔ خاندان کے بڑوں کو بلا کر شوہر نے صلح صفائی کی کوشش کی۔ شوہر ان کے سامنے کہتا ہے: میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔ ایک خالہ کے بیٹے جو کے عالم ہیں (یعنی درس نظامی کیا ہوا ہے) آئے اور انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے ایسے کہا ہے کہ ’’جا میں تمہیں ایک مرتبہ طلاق دیتا ہوں، دوسری مرتبہ طلاق دیتا ہوں‘‘ شوہر نے تردید کی اور کہا کہ میں نے ایسے کہا ہے کہ ’’جا میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں‘‘

میرا سوال یہ ہے کہ درج بالا بیان یعنی بیوی کے اور شوہر کے بیان جو کہ اس نے پہلے خالو اور باقی رشتے داروں کے سامنے دیا پھر اس خالہ زاد عالم کے سامنےدیا ان کی روشنی میں

یہ بتائیں کے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

برائے مہربانی جلد جواب ارسال کریں

آپ کے جلد جواب کا منتظر

  • سائل: عبداللہ مقام: خیبر پی کے
  • تاریخ اشاعت: 13 فروری 2015ء

زمرہ: طلاق

جواب:

مسئلہ مسؤلہ میں صورتِ حال واضح نہیں ہے کہ خاوند نے کس ذہنی کیفیت میں طلاق دی ہے۔ بہر حال مذکورہ بالا غیر واضح صورتِ حال کی ممکنہ صورتیں درج ذیل ہیں:

  1. اگر تو لڑائی جھگڑا اس نوعیت کا تھا شوہر نے شدید غصہ کی حالت میں طلاق دی ہے تو پھر طلاق واقع نہیں ہوئی، خواہ الفاظ جتنی بار بھی بولے جائیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

غصے کی طلاق کا کیا حکم ہے؟

  1. دوسری صورت یہ ہے کہ اگر شوہر نے ایسے غصہ میں طلاق دی ہے کہ اس کو اپنے غصہ پر مکمل کنٹرول تھا تو جتنی بار الفاظ بولے ہیں اتنی ہی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔ اس صورت میں شوہر سے یہ سوال کیا جائے گا کہ اس کی نیت کتنی طلاقوں کی تھی؟ کیونکہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تین بار بولنے کی بھی درج ذیل دو صورتیں ہیں:
  • تین بار لفظ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ بول کر تین طلاقیں دینے کی نیت ہو تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
  • یہی الفاظ کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ ایک سے زائد بار بول کر تاکید پیدا کرنا بھی مقصد ہو سکتا ہے۔

مسئلہ مسؤلہ میں طلاق کا فیصلہ شوہر کے بیانِ حلفی کے بعد کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہو اور اس نے تاکید پید اکرنے کے لیے ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ کے الفاظ ایک سے زائد بار بولے ہیں تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ چونکہ مسئلہ حرام و حلال کا ہے اس لیے شوہر کو اپنی اصل نیت کے مطابق بیانِ حلفی دینا چاہیے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟