Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - وطنِ اقامہ میں نماز کا کیا حکم ہے؟

وطنِ اقامہ میں نماز کا کیا حکم ہے؟

موضوع: مسافر کی نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد بلال       مقام: انڈیا

سوال نمبر 3437:
وہ امام حضرات جو بانوے (92) کلو مٹر سے زیادہ دوری پر امامت کرتے ہیں اور وہ کسی موقع پر کسی ضرورت کے تحت وہاں پندرہ (15) دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کریں تو اس صورت میں وہ نماز پوری پڑھائیں گے یا قصر؟ نیز یہ بہی ارشاد فرمائیں کہ امام جہاں نماز پڑھاتے ہیں وہ جگہ ان کے لئیے مقیم اصلی کی طرح ہو جاتی ہے؟حضور والا سے گزارش ہے کہ جواب بحوالہ عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

جواب:

امام صاحب جس جگہ امامت کر رہے ہیں اگر انہوں نے وہاں رہائش (مکان وغیرہ) رکھی ہوئی ہے اور وہ زیادہ وقت وہیں گزارتے ہیں تو یہ ان کے لیے ’وطنِ اقامہ‘ ہے۔ وطنِ اقامہ کا حکم بھی وطنِ اصلی کی طرح ہے یعنی وہ یہاں بھی پوری نماز ہی ادا کریں گے۔ اگر ان کا پندرہ دن سے کم رکنے کا ارادہ ہو، تو بھی وہ پوری نماز ادا کریں گے اور جماعت بھی پوری ہی کروائیں گے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

وطن اقامتی اور وطن سکنیٰ سے کیا مراد ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-08-01


Your Comments