وطنِ اقامہ میں نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3437
وہ امام حضرات جو بانوے (92) کلو مٹر سے زیادہ دوری پر امامت کرتے ہیں اور وہ کسی موقع پر کسی ضرورت کے تحت وہاں پندرہ (15) دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کریں تو اس صورت میں وہ نماز پوری پڑھائیں گے یا قصر؟ نیز یہ بہی ارشاد فرمائیں کہ امام جہاں نماز پڑھاتے ہیں وہ جگہ ان کے لئیے مقیم اصلی کی طرح ہو جاتی ہے؟حضور والا سے گزارش ہے کہ جواب بحوالہ عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔

  • سائل: محمد بلالمقام: انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 01 اگست 2016ء

زمرہ: مسافر کی نماز

جواب:

امام صاحب جس جگہ امامت کر رہے ہیں اگر انہوں نے وہاں رہائش (مکان وغیرہ) رکھی ہوئی ہے اور وہ زیادہ وقت وہیں گزارتے ہیں تو یہ ان کے لیے ’وطنِ اقامہ‘ ہے۔ وطنِ اقامہ کا حکم بھی وطنِ اصلی کی طرح ہے یعنی وہ یہاں بھی پوری نماز ہی ادا کریں گے۔ اگر ان کا پندرہ دن سے کم رکنے کا ارادہ ہو، تو بھی وہ پوری نماز ادا کریں گے اور جماعت بھی پوری ہی کروائیں گے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

وطن اقامتی اور وطن سکنیٰ سے کیا مراد ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟