Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جعلی نکاح نامے پر کیا گیا نکاح درست ہے؟

کیا جعلی نکاح نامے پر کیا گیا نکاح درست ہے؟

موضوع: نکاح   |  شرائط نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: عطیہ عدنان       مقام: لاہور

سوال نمبر 3324:

السلام علیکم! میرا نکاح آٹھ سال پہلے ہوا۔ میرے خاوند شادی سے پہلے ہی جاپان میں رہتے تھے اور ان کے پاسپورٹ پر ان کی ولدیت جعلی تھی۔ نکاح کے وقت دو نکاح نامے تیار کیے گئے۔ ایک پر اصلی ولدیت لکھی گئی جبکہ دوسرے نکاح نامے پر وہی جعلی ولدیت لکھی گئی جو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر تھی اور یہی نکاح نامہ رجسٹر کروایا گیا۔ کیا ایسا نکاح درست ہے؟

جواب:

شرعی طور پر نکاح دوگواہوں کی موجودگی میں بعوض حق مہر ایجاب و قبول سے قائم ہوجاتا ہے۔ باقی ساری کاغذی کاروائی ہے جو ہر ملک کے قانون کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر کاغذی کاروائی میں بھی دھوکہ یا فراڈ کیا گیا ہے تو یہ درست نہیں۔ باپ کا نام غلط لکھنا بھی حرام ہے۔ لیکن ان سے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوتا، نکاح درست ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-16


Your Comments