Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا چالیسویں کا ختم وفات کے ٹھیک چالیس دن بعد پڑھنا چاہیے؟

کیا چالیسویں کا ختم وفات کے ٹھیک چالیس دن بعد پڑھنا چاہیے؟

موضوع: ایصال ثواب

سوال پوچھنے والے کا نام: سید حسن رضا ہمدانی       مقام: عارف والا

سوال نمبر 3192:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! میرے والد یکم اپریل کو قضا الہی سے وفات پا گئے ہیں (اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین)۔ میرا سوال یہ ہے کے کیا ان کا چالیسویں کا ختم ٹھیک چالیس دن بعد پڑھنا چاہیے یا چالیس دن سے پہلے بھی یہ عمل کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ میری اماں جان کہتی ہیں کے چالیس دن کے ختم کو تیسرا مہینہ نہیں لگنا چاہے۔ کیا اس میں قرآن اور حدیث کے حوالے سے کوئی راہنمائی مل سکتی ہے؟

جواب:

قرآن و حدیث میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ اپنی سہولت کے مطابق اپنی مرضی کا دن رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ جو لوگ نماز جنازہ میں شامل نہیں ہو پاتے وہ میت کے اہلِ خانہ کے پاس تعزیت کے لئے آتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:

پہلی یہ کہ جس کا جب دل چاہے آجائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ میت کے اہلِ خانہ ایک دن مخصوص کر دیتے ہیں کہ فُلاں دن ختمِ قل ہے یا فُلاں دن ختم چہلم ہے، تاکہ سارے لوگ ایک ہی دن جمع ہوں اور سب مل کر میت کے لئے قرآن خوانی، اوراد و وظائف یا درود و سلام پڑھ سکیں اور ایصالِ ثواب کر دیں۔

لہٰذا یہ دن چالیس دن سے پہلے ہو یا بعد میں، جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ شرعا کوئی پابندی نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-04


Your Comments