Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بہو پر سسرال والوں کی خدمت کرنا فرض ہے؟

کیا بہو پر سسرال والوں کی خدمت کرنا فرض ہے؟

موضوع: حقوق العباد   |  والدین کے حقوق و فرائض   |  اولاد کے حقوق و فرائض   |  بوڑھوں کے حقوق و فرائض

سوال پوچھنے والے کا نام: ع       مقام: پاکستان

سوال نمبر 2962:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ بہو پر سسرال کی خدمت کرنا فرض ہے یا نہیں؟ دراصل میری ساس کی طبیعت خراب رہتی ہے اور میری ایک نند ہے جو پڑھتی ہے جس کی وجہ سے گھر کی ساری ذمہ داری مجھ پر آتی ہے میں خود بھی بیمار رہتی ہوں جسکی وجہ سے کام کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے اس کے باوجود گھر کا سارا کام کرتی ہوں لیکن اگر پھر بھی ذرا سی کمی رہ جاٰئے تو میرے سسرال خاص طور سے میرے سسر کو بہت غصہ آتا ہے اور اس ٹینشن کی وجہ سے میری اور طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کوئی گناہ کیا ہے مجھے سکون نہیں ملتا۔ میری جب سے شادی ہوئی ہے کبھی ایسا نہیں سوچا کہ میں ان کی خدمت نہ کروں وہ اپنی بیٹی سے زیادہ مجھ پر حق رکھتے ہیں ہمارے خاندان میں بہو اگر تھوڑا سا بھی کام نہ کرے تو سب کہتے ہیں سب کی نظروں میں آ جاتی ہے۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کیوں کہ مجھے خود بھی گناہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر میں ان کا کام نہ کروں سوچ سوچ کر ذہنی مریضہ بنتی جا رہی ہوں، اس وجہ سے میری طبیعت چڑچڑی رہتی ہے، اپنے شوہر سے بھی بلاوجہ لڑ پڑتی ہوں ذرا ذرا سی بات پر غصہ آتا ہے اور میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک مجھے حوصلہ اور صبر دے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت شوہر کے لیے آئی برو بنوا سکتی ہے چاہے اسکا شوہر اسے کہے یا نہ کہے کئی عورتوں کے شوہر کہتے ہیں بنوانے کو لیکن جن کے نہیں کہتے کیا وہ بھی شوہر کے لیے بنوا سکتی ہے؟اور میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ شوہر کے لیے زیب وزیبائش نہ کرنے پر عورت کو کتنا گناہ ہوگا میں سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہوں تو ٹائم نہیں ملتا شام کو تھک جاتی ہوں ہمت نہیں رہتی اگر تیار نہ ہوں تو میرے شوہر غصہ ہوتے ہیں؟

جواب:

جب انسان کام کاج کرتا ہے کمی بیشی تو رہ ہی جاتی ہے۔ انسان سے غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے سسر صاحب کو کچھ سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ غصے کی بجائے پیار سے بیٹیوں کی طرح آپ کو سمجھانا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیےآپ ان کو سسر کے بجائے ابو جی کہیں اور وہ آپ کو بیٹی کہیں اور سمجھیں بھی۔ خود ہی دیکھ لینا ساری لڑائیاں ختم ہو جائیں گی۔ آپ کو پریشانی بنے گی نہ ان کو چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر غصہ آئے گا۔ غلطی تو انسان سے ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے حالات کشیدہ کر دینا اچھی بات نہیں ہے۔ اور آپ کے لیے بھی بہت ہی اچھا ہے اگر وہ آپ کو برا بھلا کہیں تو آپ والد کی جگہ سمجھتے ہوئے ان کی باتوں کا برا نہ منائیں، پھر بھی آپ کی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔ اگر مذکورہ بالا میں سے کوئی بھی صورت نہیں بنتی پھر آپ کے خاوند کو چاہیے کہ آپ کو الگ گھر مہیا کریں یا پھر کام کاج والدین سے الگ کر لیں۔ وہ اپنے والدین کی خدمت جاری رکھیں، ان کی خدمت میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ لیکن آپ کو الگ کر دیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے، تاکہ یہ اختلافات بڑھتے بڑھتے کوئی خطرناک راہ اختیار نہ کر جائیں۔ اللہ تعالی آپ لوگوں پر رحم وکرم فرمائے۔

مزید مطالعہ کے لیے درج ذیل سوالات پر کلک کریں۔

کیا بیوی پر ساس کی خدمت کرنا فرض ہے؟

مسلمان خواتین کا میک اپ کی غرض سے بیوٹی پارلر میں جانا کیسا ہے؟

بناؤ سنگھار کس حد تک اور کس کے لئے جائز ہے؟

عمدًا نفلی روزہ توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-11-29


Your Comments