Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مطلقہ بوقت ضرورت سابق شوہر کا نام استعمال کر سکتی ہے؟

کیا مطلقہ بوقت ضرورت سابق شوہر کا نام استعمال کر سکتی ہے؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: وسیم عبداللہ جان قادری       مقام: میر پور، آزاد کشمیر

سوال نمبر 2643:
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ سے متعلق کہ: بیوی طلاق کے بعد ضرورت کے تحت اپنے شوہر (جس نے طلاق دی ہے) کا نام استعمال کر سکتی ہے؟ اگر کوئی بیوی طلاق کے بعد بھی ایسا کرتی ہے تو ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب:

طلاق کے بعد عورت اپنے سابق شوہر کا نام بطور خاوند استعمال نہیں کر سکتی۔ بطور سابق شوہر استعمال کر سکتی ہے۔ طلاق چاہے رجعی، بائنہ یا مغلظہ ہو۔ اس کو خاوند نہیں کہہ سکتی۔ ہاں طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجوع کر لے یا پھر بائنہ جس کے بعد نکاح کر سکتا ہو، اگر طلاق بائنہ میں نکاح کر لے تو دوبارہ رشتہ بحال ہو جائے گا، ورنہ وہ اس کے لیے ایک اجنبی مرد کی طرح ہی ہوتا ہے، جیسے دوسرے مردوں کو خاوند نہیں کہہ سکتی، جب تک نکاح نہ ہو جائے۔ اسی طرح طلاق کے بعد شوہر کے نام کو بھی استعمال نہیں کر سکتی۔ اس کا یہی حکم ہے کہ جیسے بغیر نکاح کے کسی کو خاوند کہنا حرام ہے۔ اسی طرح طلاق دینے والے کو بھی خاوند نہیں کہہ سکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-07-04


Your Comments