Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ذبح کرتے وقت جانور کی گردن کیوں‌ نہیں‌ اتاری جاتی ہے؟

ذبح کرتے وقت جانور کی گردن کیوں‌ نہیں‌ اتاری جاتی ہے؟

موضوع: مسمانوں کا ذبیحہ

سوال پوچھنے والے کا نام: طیب طاہر       مقام: کالا گجراں، جہلم

سوال نمبر 2564:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کی گردن کیوں‌ نہیں‌ اتاری جاتی ہے؟

جواب:

جانور ذبح کرتے وقت چار بڑی رگیں کاٹی جاتی ہیں تاکہ جانور کے جسم سے سارا خون نکل جائے۔ گردن الگ نہ کرنے کی یہ حکمت بھی ہے کہ یک دم گردن الگ کرنے سے گوشت میں خون رہ جانے کا خدشہ رہتا ہے یعنی جانور جلدی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اگر گردن الگ نہ کی جائے تو جانور آرام آرام سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور سارا خون نکل جاتا ہے۔ ذبح کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہی ہوتی ہے کہ جانور کے جسم سے خون نکل کر جراثیم سے پاک ہو جائے۔ لیکن یاد رہے گردن الگ ہو جانے سے بھی جانور کی حرمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، ذبیحہ حلال ہی رہتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-05-08


Your Comments