Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا دوسری شادی سے پہلے بیوی کی اجازت لینی پڑے گی؟

کیا دوسری شادی سے پہلے بیوی کی اجازت لینی پڑے گی؟

موضوع: خواتین کے حقوق و فرائض   |  نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: مستقیم چوہدری       مقام: ابو دہبی، متحدہ عرب عمارات

سوال نمبر 2551:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کی بیوی غصے میں‌ آ کر مطالبہ کرے اور کہے کہ آپ اگر خوش نہیں‌ ہیں‌ تو دوسری شادی کر لیں، تو کیا دوسری شادی کر لینی چاہیے اور کیا دوسری شادی سے پہلے بیوی کی اجازت لینی پڑے گی؟ خاوند کے لیے یہ بڑی مشکل صورت حال ہے کہ وہ اپنے منہ سے طلاق کا ایک لفظ بھی نہ نکالے۔۔۔ لیکن اگر خاوند بھی یہ کہہ دے کہ اگر تم کو مجھ سے اچھا نظر آئے تو تم اس کے ساتھ شادی کر سکتی ہو، لیکن طلاق کا کوئی ارادہ بھی نہ ہو، تو اس کو شریعت میں‌ کیا سمجھا جائے گا؟ آخری بات کہ جیسا دوسرے ملکوں میں‌ ہے کہ طلاق تب تک نہیں‌ ہو گی جب تک کوئی اس کو آفیشل قانونی طریقے کو استعمال نہ کرے۔ تو آج کل کے دور میں علماء کا اس پر اجماع نہیں‌ ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب تک کوئی عدالت میں‌ جائے گا، شاید اس کا غصے ہی ٹھنڈا ہو جائے اور ایک گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

پہلی بات یہ ہے کہ پہلی بیوی سے اجازت لیے بغیر اگر کوئی دوسری شادی کر لے تو نکاح ہو جائے گا، لیکن اخلاقی طور پر یہ اچھی بات نہیں ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ جو عرصہ گزارا ہے اسی کا خیال رکھتے ہوئے اس سے اجازت لے لیں اور ملکی قانون میں بھی پہلی بیوی سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ اسلام بھی ایک شادی سے زیادہ یعنی چار شادیاں ایک وقت میں کرنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن ساتھ یہ شرط بھی لگائی ہے کہ عدل بھی کر سکے، ورنہ تو ایک شادی کی بھی اجازت نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو یہ کہہ دے کہ 'اگر تمہیں مجھ سے اچھا نظر آئے تو تم اس کے ساتھ شادی کر سکتی ہو' اس سے مراد ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اجازت دے رہا ہے، لہذا اگر بیوی چاہے تو جا سکتی ہے، نکاح ختم ہو جائے گا، عدت پوری کر کے کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اسلام کی نگاہ میں رشتہ ازدواج ایک اہم ترین رشتہ ہے، اس لیے قرآن پاک میں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کوئی مسئلہ پیش آئے تو ثالث کے ذریعے اس کو حل کیا جائے تاکہ طلاق تک نوبت ہی نہ آئے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا

(النساء، 4 : 35)

اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا،

اسی طرح ملکی قانون کے مطابق بھی طلاق دینے کا خواہش مند پہلے یونین کونسل سے رابطہ کرے پھر ثالثی کونسل فیصلہ کرے گی، اگر کوئی ان کے پاس جائے ہی نہ خود ہی طلاق دے دے، اس نے قرآن اور ملکی قانون دونوں کی خلاف ورزی کی۔

مثلا کوئی بھی مسئلہ ہو جائے تو اس کے حل کے لیے کئی فورم ہو سکتے ہیں، جیسے پولیس چوکی، تھانہ، کچہری وغیرہ وغیرہ لیکن بندہ ان کے پاس جائے بغیر گن اٹھائے اور جس کے ساتھ مسئلہ ہو اس کو قتل کر دے وہ تو مر جائے گا۔ اسی طرح یہ مسئلہ ہے جس منہ سے کہنے سے نکاح ہو گیا تھا اسی منہ سے کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مسلم فیملی لاء کا یہ حصہ ہے کہ طلاق ایک طریقے کے تحت دی جائے لیکن اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-04-23


Your Comments