Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا آثار وتبرکات کی زیارت مخصوص دنوں میں کرنی چاہیے؟

کیا آثار وتبرکات کی زیارت مخصوص دنوں میں کرنی چاہیے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: سید مختار احمد قادری       مقام: بنگلور، انڈیا

سوال نمبر 2282:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہمارے شہر میں کچھ خانقاہیں ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار وتبرکات ہیں۔ جنکی وہاں زیارت چند مخصوص دنوں میں ہی کرائی جاتی ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط طریقہ ہے آثار وتبرکات ہیں جب چاہے زیارت ہونی چاہیے لیکن بکر کا قول ہے کہ آثار وتبرکات کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مخصوص مواقع پر ہی زیارت کروانا بالکل درست ہے۔ کونسا قول درست ہے؟ تفصیلی ارشاد فرمائیں۔

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ زیارت کا موقع دیا جائے، لیکن کچھ انتظامی معاملات بھی ہوتے ہیں، اب ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے بہرحال انتظامیہ کو چاہیے کہ وقت میں اضافہ کیا جائے اور ان آثار وتبرکات کی سیکورٹی کا بھی بہترین بندوبست کرنا چاہیے تاکہ ان تبرکات کو دشمن سے بھی محفوظ رکھ سکیں اور لوگوں کو تادیر ان کی زیارت کا شرف حاصل ہو۔ لہذا اگر ممکن ہو تو زیارات کا دورانیہ پڑھایا جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-10-24


Your Comments