انتقال میت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال نمبر:2127
السلام علیکم جناب مفتی صاحب آپ سے سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا کسی بزرگ کی قبر کو وسیع کرنے اور اس کے سلسلہ طریقت کو پھیلانے کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی پختہ دلائل کے ساتھ جواب دیں۔ کیونکہ نہ تو ان بزرگوں کی وصیت تھی اور نہ کوئی شرعی عذر موجود ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

  • سائل: محمد عارفمقام: اٹک
  • تاریخ اشاعت: 18 ستمبر 2012ء

زمرہ: احکام میت

جواب:

وعلیکم السلام بغیر کسی شرعی عذر کے میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں ہے۔ مستحب یہ ہے کہ جہاں مرے وہیں دفن کیا جائے لیکن دفن سے پہلے میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر (ایک جگہ سے دوسری جگہ) منتقل کرنا جائز ہے بشرطیکہ جسم کے خراب ہونے اور بدبودار ہونے کا خطرہ نہ ہو لیکن دفن کرنے کے بعد اسے نکالنا اور منتقل کرنا دو صورتوں میں جائز ہے۔

اذا کانت الارض التی دفن فيها مغضوبة او اخذت بعد دفنه بشفعة.

جب زمین غصب شدہ ہے یا دفن کے بعد اسے کسی نے حق شفعہء کی بناء پر لے لیا درج بالا دو صورتوں کے علاوہ انتقال میت جائز نہیں ہے اگر زمین کا مالک اجازت نہ دے تو، اگر وہ اجازت دے دیتا ہے تو پھر میت کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔

  • الفقه علی المذاهب الاربعة ص 537 ج 1

  • شامی ص 238 جلد 2

  • البحر الرائق ص 210 جلد 2

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟