ایک قبر میں دوسرے مردے کو دفن کرنا کیسا ہے؟


سوال نمبر:1362
السلام و علیکم۔ میرا سوال فوت شدہ کے حوالے سے ہے کہ جدہ میں کسی کو جب دفناتے ہیں تو قبر میں چند مہینوں کے بعد اس کی ہڈییوں کو نکال کر اس کی جگہ نیا مردہ دفن کر دیتے ہیں۔ تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور فوت شدہ کی روح کیا اسی قبر میں ہو گی؟ یا اس قبرستان میں ہو گی؟ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ شکریہ۔

  • سائل: خالدمقام: جدہ
  • تاریخ اشاعت: 17 جنوری 2012ء

زمرہ: احکام میت

جواب:

ایک قبر میں دوسرے مردہ کو دفن کرنا بدعت سیئہ، مذمومہ اور بدعت ضلالۃ ہے۔ ایسا کرنا صرف حالتِ اضطرار میں جائز ہے اور اگر الگ دفن کرنے کے لیے جگہ موجود ہو تو پھر ایک قبر میں دوسرے مردے کو دفن کرنا ناجائز ہے۔ فوت شدہ کی روح نہ تو اس قبر میں ہوتی ہے اور نہ قبرستان میں، اموات کی ارواح عالم ارواح میں ہوتی ہیں۔ جسم سے ان کا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر فوت شدہ کو عذاب دینا مقصود ہو تو ایسی صورت میں اس کی روح کو واپس کیا جاتا ہے تاکہ اسے عذاب کا احساس ہو۔

گویا اصل عذاب روح کو ہوتا ہے اور جسم اس کا آلہ ہوتا ہے۔ جہاں روح کا جسم کے ساتھ رابطہ کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال فالج زدہ عضو ہے۔ جسم کا جو عضو فالج زدہ ہو اسے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اگرچہ اس کا کاٹ دیا جائے، کیونکہ جسم کے اس حصے سے روح نکل چکی ہوتی ہے اور وہ حصہ مردہ ہو جاتا ہے۔ لیکن جسم کے دوسرے حصوں میں جہاں روح موجود ہوتی ہے اور ان میں حرکت بھی ہوتی ہے، احساس موجود رہتا ہے، اگر ان میں کسی قسم کی تکلیف ہو تو انسان محسوس کرتا ہے۔

علاوہ ازیں ارواح کا اللہ تعالیٰ کے نیک و برگزیدہ بندوں کے اجسام کے ساتھ تعلق رہتا ہے، جیسے انبیاء کرام، شہداء، اولیاء کرام، صلحاء کرام وغیرہ۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا 'جب میرا امتی مجھ پر قریب سے درود بھیجتا ہے تو میں خود سنتا ہوں' اور سنا تبھی جاتا ہے جب روح کا تعلق جسم کے ساتھ ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری