کیا حائضہ عورت میلاد میں درس دے سکتی ہے؟

سوال نمبر:1802
کیا حائضہ عورت میلاد میں درس دے سکتی ہے؟ اور قرآن مجید کی تلاوت کر کے ختم پڑھ سکتی ہے؟ ایسا ایک خاتون کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ مجبوری ہے لوگ تنگ کرتے ہیں؟

  • سائل: شاھد محمودمقام: منگلا میرپور آزاد کشمیر
  • تاریخ اشاعت: 02 جون 2012ء

زمرہ: طہارت   |  حیض   |  میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  |  نجاستیں   |  تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:

حیض اور نفاس والی عورت میلاد کا پروگرام ہو یا اسکے علاوہ کوئی بھی پروگرام ،وہ درس دے سکتی ہیں، دعائیں پڑھ سکتی ہیں، ذکر و اذکار کر سکتی ہیں، لیکن قرآن مجید کی تلاوت نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں ان کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت نہ کریں بلکہ ان آیات کا ترجمہ پڑھیں اور ان آیات کا حوالہ دے دیں تا کہ عوام خود ان  آیات کی تلاوت کر سکیں۔

حیض و نفاس والی خواتین قرآن مجید کی تلاوت نہیں کر سکتی نہ ہی اس کو چھو سکتی ہیں اور نہ ہی زبانی پڑھ سکتی ہیں لیکن ترجمہ وغیرہ پڑھ سکتی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟