Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کھانے کی اشیاء پر تصاویر بنانا جائز ہے؟

کیا کھانے کی اشیاء پر تصاویر بنانا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  حلال کھانے   |  حرام کھانے   |  تصویر کی شرعی حیثیت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مختار اشرفی       مقام: کراچی، پاکستان

سوال نمبر 1792:
محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ کیافرماتے ہیں علماءدین ومفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ!ہم ایک پروڈکٹ بناتے ہیں جس کو فوٹو کیک کہتے ہیں ۔اس پروڈکٹ کی مندرجہ قسمیں ہیں۔(۱) Message کیک(۲) کمپنی لوگو (LOGO) کیک (۳) کارٹون کیک (۴) Image کیک ۱۔ Message کیک:اس قسم کے کیک میں لوگ اپنے عزیزیارشتہ داروں کوپیغام یادعائیہ جملے لکھواکرکیک دیتے ہیں ۔ ۲۔ کمپنی لوگو(LOGO)کیک :اس قسم کے کیک میں لوگ اپنی کمپنی کی سالگرہ پر ہمیں اپنی کمپنی کاLogo دیتے ہیں تاکہ کیک پر لگایا جاسکے ۔ ۳۔ کارٹون کیک :اس قسم کے کیک میں کسٹمراپنے بچوں کی سالگرہ پر ہمیں ہماری Catalogue (مصنوعاتی فہرست) سے کوئی بھی کارٹون کریکٹر پسند کرکے ہمیں کیک بنانے کا آرڈر دیتے ہیں تاکہ ہم اس کا پرنٹ نکال کرکیک پر لگائیں۔کارٹون کریکٹر کاوجود فرضی ہے ان کا وجوددنیا میں نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کیک پروڈکٹ میں شیپ کیک (Shape Cake) بھی شامل ہے۔ کسٹمر Catalogue (مصنوعاتی فہرست)سے کوئی بھی کارٹون کریکٹر پسند کرکے ہمیں کیک بنانے کا آرڈر دیتے ہیں۔شیپ کیک میں مختلف کارٹون کریکٹرکے سانچے ہوتے ہیں جس کی مدد سے ہم کسی بھی کارٹون کریکٹر کا کیک بناتے ہیں ۔ ۴۔ تصویر کیک : اس قسم کے کیک میں کسٹمر ہمیں مختلف تصاویرمثلاً اپنی یااپنے والدین یاپھربچوںکی تصویردیتے ہیں ۔ تاکہ ہم اس کا پرنٹ نکال کرکیک پر لگائیں۔ Message کیک ،کمپنی (Logo) کیک،کارٹون کیک اورفوٹوکیک کوہم Edible rice paper(چاول سے بناہوا کاغذ)پرپرنٹ کرتے ہیں اورپرنٹ میں جورنگدارسیاہی استعمال ہوتی ہے وہ Food Colour ہوتا ہے ۔ہم تصویرکاپرنٹ نکالنے کے بعد اسکو کیک پر لگادیتے ہیں جوکہ ایک گھنٹے میں کیک کاحصہ بن جاتاہے۔اور اسکو 24 گھنٹے کے اندر استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں معلومات یہ کرنی ہے کہ شریعت میں جوتصویر کے بارے میں ممانعت ہے کیا ان دونوں کے بارے میں بھی وہی حکم ہے ؟

جواب:

جی ہاں کھانے کی اشیاء پر تصاویر بنانا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-06-02


Your Comments