کیا غیر مذہب کی دی ہوئی چیز کھانا جائز ہے؟

سوال نمبر:1674
ہمارا ایک ڈیلر جو کہ ہندو ہے وہ پاکستان سے ہجرت کرکے انڈیا چلا گیا اور جب وہ انڈیا سے آیا تو ہمارے آفس کے لئے گفٹ کے طور پر ایک مٹھائی لایا جو کہ انڈیا کی ایک سویٹس کمپنی بناتی ہے اور اس کے شامل اجزاء بھی حلال تھے جو کہ Refined Sugar, Gram Flour, Fine Flour, Refined Palmolein Oil, Refined Peanut Oil, Liquid Glucose, Cardamom, Pistachio, Almonds, Cucumber Seeds, And Permitted Falvour And Emulsifiers. برائے مہربانی بتائیں کہ کیا اس طرح کے گفٹ کی مٹھائی کھائی جا سکتی ہے اور مستقبل میں اگر کوئی اس قسم کا گفٹ مثلا کیک وغیرہ دے تو کیا وہ کھا سکتے ہیں؟ اس کے لئے شرعی اصول کیا ہوگا تاکہ مستقبل میں حلال اور حرام کے درمیان تمیز کی جا سکے۔

  • سائل: عبداللہ خانمقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 20 اپریل 2012ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

غیر مذہب کی دی ہوئی چیز کھانا جائز ہے۔ اگر اس میں کوئی حرام شے نہ ملی ہوئی ہو۔ آپ کے بیان کردہ سوال کے مطابق مٹھائی یا کیک کھانا اور لینا جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اگر اس کے اجزاء میں کوئی حرام چیز ملی ہوئی ہو تو پھر کھانا حرام ہے۔ وگرنہ جائز اور حلال ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا کسی ہندو کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا کھایا جا سکتا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟