عمل کثیر سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:1660
عمل کثیر کی وضاحت فرما دیجئے۔

  • سائل: طاہرمقام: رایئونڈ
  • تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2012ء

زمرہ: نماز  |  عبادات

جواب:

اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن عمل کثیر کے بارے میں خود انسان کا ضمیر ہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ جو وہ تمام کر رہا ہے کیا عمل کثیر ہے یا نہیں؟

دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص دیکھ کر یہ کہے کہ یہ عمل، عمل کثیر ہے۔ مثلاً ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن دوران نماز وہ ایسی حرکات وسکنات کرتا ہے،  جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہا، کبھی سر پر خارش کرنا شروع کر دیتا ہے ،کبھی جسم کے دوسرے اعضاء پر خارش کرنا شروع کر دیتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس کو دیکھ کر یہ کہے اور یہ سمجھے کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہا، دوسرا شخص اس کو نماز تصور نہ کرے تو یہ عمل کثیر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟