Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - عمل کثیر سے کیا مراد ہے؟

عمل کثیر سے کیا مراد ہے؟

موضوع: نماز  |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: طاہر       مقام: رایئونڈ

سوال نمبر 1660:
عمل کثیر کی وضاحت فرما دیجئے۔

جواب:

اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ لیکن عمل کثیر کے بارے میں خود انسان کا ضمیر ہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ جو وہ تمام کر رہا ہے کیا عمل کثیر ہے یا نہیں؟

دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی دوسرا شخص دیکھ کر یہ کہے کہ یہ عمل، عمل کثیر ہے۔ مثلاً ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن دوران نماز وہ ایسی حرکات وسکنات کرتا ہے،  جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہا، کبھی سر پر خارش کرنا شروع کر دیتا ہے ،کبھی جسم کے دوسرے اعضاء پر خارش کرنا شروع کر دیتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس کو دیکھ کر یہ کہے اور یہ سمجھے کہ یہ نماز نہیں پڑھ رہا، دوسرا شخص اس کو نماز تصور نہ کرے تو یہ عمل کثیر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-19


Your Comments