کیا بینک کی طرف سے ملنے والی تنخواہ حرام آمدنی میں شمار ہوتی ہے؟

سوال نمبر:1444
السلام علیکم میں گزشتہ 4 سال سے بینک میں‌ کام کر رہا ہوں. میں نے سنا ہے کہ بینک کی طرف سے جو میری تنخواہ کی صورت میں ملنے والی آمدنی ہے، وہ حرام ہے. میں آپ سے اپنی آمدنی کے بارے میں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو مجھے بینک سے ملتی ہے. میں ایک شادی شدہ آدمی ہوں، میرے دو بچے بھی ہیں اور یہ آمدنی میرے اور میرے خاندان کے لیے منحصر ہے. میں اپنی نوکری چھوڑ نہیں سکتا جب تک کہ کوئی متبادل نوکری نہ تلاش کر لوں جس میں گزشتہ 4 سال کے لئے کوشش بھی کر رہا ہوں ۔ براہ مہربانی مجھے اس پر رہنمائی دیں. میں آپ کا شکر گزار ہو نگا۔

  • سائل: محمد اسرار حسنمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 15 فروری 2012ء

زمرہ: بینکاری

جواب:

آپ کے سوال کے مطابق بینک کی آمدنی حلال ہے، کیونکہ آپ حالت اضطرار میں ہیں۔ لیکن جب بھی آپ کو کوئی اچھا اور مناسب کام مل جائے تو آپ اس نوکری کو چھوڑ سکتے ہیں۔ جب تک متبادل کام نہیں ملتا، آپ اپنی نوکری جاری رکھیں، آپ کی تنخواہ حلال ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟