Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا دوران حمل طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

کیا دوران حمل طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

موضوع: طلاق   |  حاملہ کی عدت

سوال پوچھنے والے کا نام: صابر حسین       مقام: لا ہور، پاکستان

سوال نمبر 1176:

ایک شخص نے اپنی حاملہ بیوی کو تین مرتبہ طلاق دی تو کیا حمل کے دوران طلاق ہو جاتی ہے۔ نیز اس شخص نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دی۔ تیسری مرتبہ کہنے پر اس کی بچی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کرا دیا تو ایسی صورت میں کونسی طلاق واقع ہوئی؟

جواب:

1۔ حاملہ بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت وضع حمل ہے۔ قرآن کریم میں ہے :

وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ.

(الطلاق، 65 : 4)

اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے۔

2۔ بچی کو جو شعور و احساس ہوا اور اس نے باپ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر تیسری طلاق سے روک دیا۔ کاش! باپ کو بھی یہ احساس و شعور ہو۔ یہ ایک باپ کا مسئلہ نہیں اکثر لوگ بے شعوری کا ثبوت دے کر تین طلاقیں دیتے ہیں‘ پھر خود بھی روتے ہیں‘ بچوں اور بیوی کا بھی بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ بہرحال بیوی کو دو رجعی طلاقیں ہو گئیں۔ عدت کے اندر عملی یا زبانی طور پر رجوع کر سکتا ہے۔ عدت کے بعد چاہیں تو باہمی رضا مندی سے از سر نو نکاح کر سکتے ہیں‘ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ خبردار رہے کہ دو طلاقیں ہو چکی ہیں۔ عمر بھر میں بھی ایک طلاق اور دیدی تو تین ہو جائیں گی اور حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی، لہٰذا بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-08-16


Your Comments