Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نماز میں شلوار گھٹنوں سے اوپر ہونی چاہے؟

کیا نماز میں شلوار گھٹنوں سے اوپر ہونی چاہے؟

موضوع: عبادات  |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: سید تجمل       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 1019:
کیا نماز میں شلوار گھٹنوں سے اوپر ہونی چاہے؟ کیا پینٹ یا ٹروزر نماز میں گھٹنوں سے اوپر ہونا ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر نماز نہیں ہو گی؟

جواب:
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غرور اور تکبر کی وجہ سے چادر (شلوار، پینٹ یا پاجامہ وغیرہ) کو زمین پر گھسیٹنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا، اس کا نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے کوئی بھی شخص چاہے وہ نماز میں ہو یا نماز سے باہر اگر اس کی شلوار، پینٹ یا چادر وغیرہ غرور اور تکبر کی وجہ سے ٹخنوں (نہ کہ گھٹنوں) سے نیچے ہو تو ناجائز ہے، حرام ہے۔ اگر غرور اور تکبر نہیں پایا جاتا تو کوئی حرج نہیں، چاہے وہ نماز میں ہو یا نماز سے باہر۔

حدیث پاک میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اپنا کپڑا غرور و تکبر سے گھسیٹے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی۔ میں اپنے کپڑے کے ایک کونے کو نہ پکڑے رکھو تو وہ نیچے لٹک جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا غرور و تکبر سے نہیں کرتے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-06-02


Your Comments