کیا رضاعی باپ کی وراثت میں رضاعی اولاد کا حق ہوتا ہے؟

سوال نمبر:4929

السلام علیکم مفتی صاحب! کیا رضاعی اولاد حقیقی والد کے علاوہ رضاعی باپ کی جائیداد میں بھی وراثت کی حقدار قرار پائے گی؟

  • سائل: احمد بن تیمورمقام: سالم، سرگودھا
  • تاریخ اشاعت: 28 جون 2018ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

قرآن و حدیث میں جہاں ترکہ کے احکام بیان ہوئے ہیں اور ورثاء کے حصے مقرر کئے گئے ہیں ان میں رضاعی اولاد کا حصہ مقرر نہیں کیا گیا۔ اس لیے رضاعی اولاد شرعاً رضاعی باپ کی وارث نہیں ہے۔ البتہ رضاعی اولاد کے لیے بطورِ غیر وارث وصیت کی جاسکتی ہے یا رضاعی والدین اپنی زندگی میں ہی جائیداد کا کچھ حصہ ان کو ہبہ کر سکتے ہیں۔ منہ بولی اولاد کا حکم بھی اسی طرح کا ہے، وہ بھی شرعی وارث نہیں‌ ہیں‘ ان کو بھی اپنی زندگی میں کچھ ہبہ کیا جاسکتا ہے یا ان کے لیے کچھ وصیت کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟