Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - طلاق کو نماز کی عدم ادائیگی کے ساتھ مشروط کرنا کیسا ہے؟

طلاق کو نماز کی عدم ادائیگی کے ساتھ مشروط کرنا کیسا ہے؟

موضوع: طلاق   |  تعلیق طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: شمس تبریز       مقام: حیدرآباد، تلنگانہ

سوال نمبر 4008:
السلام علیکم! علمائے حق اہل سنت و الجماعت کے معزز علمائے کرام درج ذیل مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں: زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا نماز پڑھو، اگر نماز نہیں پڑھےگی تو تجھے طلاق یا کہا تین طلاق، تو ہندہ نے غصہ میں آکر کہا کہ نہیں پڑھوں گی، پھر بعد میں نماز پڑھ لی۔ کیا زید کے نکاح سے ہندہ نکل گئی؟ فعل مذکورہ کرنے سے اگر نکل گئی تو کتنے طلاق واقع ہوگی۔

جواب:

اگر زید نے بیوی سے کہا کہ ’اگر نماز نہیں پڑھے گی تو تجھے طلاق یا تین طلاق‘ اور بیوی نے نماز پڑھ لی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ آئندہ ان لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اور حدود کا اس طرح مذاق اڑانا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔

اگر زید نے وقت کی قید لگاتے ہوئے بیوی سے کہا کہ ’اگر ابھی نماز نہیں پڑھے گی تو تجھے طلاق یا تین طلاق‘ یا کہا ’اگر اتنے وقت کے اندر نماز نہیں پڑھے گی تو تجھے طلاق یا تین طلاق‘ اور بیوی نے اُسی وقت یا وقت کے اندر نماز نہیں پڑھی تو طلاق واقع ہو گئی۔ کیونکہ زید نے طلاق کو شرط کے ساتھ مشروط کیا تھا اور شرط کے پائے جانے پر مشروط واقع ہو گیا۔ امام مرغینانی فرماتے ہیں:

و اذا اضافة الیٰ شرط وقع عقيب الشرط.

جب خاوند نے طلاق کو شرط سے مشروط کیا اور شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔

  1. مرغيناني، الهدايه، 1: 251، المکتبة الاسلاميه
  2. الشيخ نظام و جماعة من علماء الهند، الفتاویٰ الهنديه، 1: 420، بيروت، لبنان

لہٰذا زید نے اگر طلاق کو نماز کی عدم ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا اور بیوی نے نماز ادا کر لی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-09-08


Your Comments