Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مستقل نل بندی کروانا جائز ہے؟

کیا مستقل نل بندی کروانا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  ضبط تولید(خاندانی منصوبہ بندی)

سوال پوچھنے والے کا نام: لیاقت علی اعوان       مقام: اوکاڑہ

سوال نمبر 3561:
السلام علیکم! میرے پوچھے گئے سوال نمبر3532 کا جواب ملا کہ بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ یا منصوبہ بندی کیلیے نل بندی جائز ہے۔ مگر میرے پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ مستقل نل بندی (آپریشن کروا کے ہمیشہ کیلیےبچوں کی بندش) کروانا کیسا عمل ہے؟

جواب:

اگر ماہر معالج، عورت کی صحت کے پیشِ نظر فیصلہ کریں کہ مزید بچوں کی پیدائش کی صورت میں اسے بہت زيادہ کمزوری ہوجائے گی یا عورت کے بیمار ہونے کا خدشہ ظاہر کریں یا حمل و ولادت کی وجہ سے عورت کی جان جانے کا خطرہ ہو تو زن و شوہر کی رضامندی سے مستقل نس بندی بھی جائز ہے۔ اس کی وضاحت ہم نے آپ کے گزشتہ سوال ’نل بندی (عورتوں کا آپریشن) کروانا کیسا ہے؟‘ میں کر دی تھی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-02-09


Your Comments