Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حاملہ بیوی سے ہمبستری کرنے کا کیا حکم ہے؟

حاملہ بیوی سے ہمبستری کرنے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  ضبط تولید (خاندانی منصوبہ بندی)

سوال پوچھنے والے کا نام: شعیب علی       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3491:

السلام علیکم! حاملہ بیوی سے ہمبستری کرنا کیسا عمل ہے؟ اور اس میں کوئی ممانعت تو نہیں ہے اگر ہمبستری کرتے ہو ئے احتیاط برتی جائے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ مزید بچے کی خواہش نہ چاہتے ہوئے عورت (بیوی) کی بچہ دانی کا آپریشن کروانا کیسا ہے؟ تاکہ احتیاط کیے بغیر مزید بچہ نہ ہو۔

شکریہ

جواب:

حاملہ بيوى سے ہمبستری کرنا جائز ہے جب تک کہ بیوی ہمبستری کرنے کی اجازت دے یعنی تکلیف محسوس نہ کرے اور حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ شرعاً حاملہ بیوی سے جماع کی ممانعت نہیں ہے۔ حاملہ بیوی سے ہمبستری کے لیے طبّی طور پر کوئی بھی مناسب اور محفوظ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔ شرعِ متین نے دبر ميں وطئ كرنے اور حيض و نفاس كى حالت میں جماع و ہمبستری کو حرام ٹھہرایا ہے.

بچوں کی پیدائش میں وقفے یا چند بچوں کے بعد عورت کی صحت کے پیش نظر مستقل نل بندی کروانا شرعاً جائز ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

نل بندی (عورتوں کا آپریشن) کروانا کیسا عمل ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-09


Your Comments