Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جنازہ سے پہلے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے؟

کیا جنازہ سے پہلے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے؟

موضوع: نماز جنازہ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اکرم       مقام: تلہ گنگ

سوال نمبر 960:
بعض وجوہات کی وجہ سے بعض اوقات موت کے بعد جنازہ 3، 4 دن لیٹ ہوجاتا ہے جیسے ڈیڈ بوڈی ملک سے باہر ہے اور اسے اپنے ملک بھجوانے میں‌ دیر لگ جاتی ہے۔ کیا ایسی صورت میں جنازہ سے پہلے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے۔

جواب:
فاتحہ یا دعا زندہ اور مردہ دونوں کے لیے بغیر کسی وقت کی قید کے جائز ہے۔ جنازہ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی میت کے لیے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے۔

فقہاء کرام فرماتے ہیں : میت کو غسل دینے سے قبل اس کے پاس بیٹھ کر تلاوت قرآن مجید کرنا مکروہ ہے جبکہ غسل کے بعد مکروہ نہیں ہے۔

امام شامی فرماتے ہیں :

اذا کان قريبا منه اما اذا بَعُدَ عنه بالقراءة فلا کراهة.

(شامی، 2 : 194)

میت کے پاس بیٹھ کر قراءت کرنا مکروہ ہے، اگر دور ہو تو مکروہ نہیں ہے۔

لہذا مطلقا دعا کرنا ہر جگہ جائز ہے۔ فقط تلاوت قرآن میت کے پاس بیٹھ کر غسل سے پہلے کرنا مکروہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-05-10


Your Comments