Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سود لینا جائز ہے؟

کیا سود لینا جائز ہے؟

موضوع: سود

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اشرف       مقام: مکرانہ، انڈیا

سوال نمبر 959:
کیا سود لینا جائز ہے؟

جواب:

سود لینا اور دینا دونوں حرام اور ناجائز ہیں۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.

(الْبَقَرَة ، 2 : 275)

حالانکہ اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے

ایک اور جگہ فرمایا :

يَمْحَقُ اللّهُ الْرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍo

(الْبَقَرَة ، 2 : 276)

اور اﷲ سود کو مٹاتا ہے (یعنی سودی مال سے برکت کو ختم کرتا ہے) اور صدقات کو بڑھاتا ہے (یعنی صدقہ کے ذریعے مال کی برکت کو زیادہ کرتا ہے)، اور اﷲ کسی بھی ناسپاس نافرمان کو پسند نہیں کرتاo

سود خوروں کے خلاف اعلان جنگ کے بارے میں فرمایا ہے :

أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَo

(الْبَقَرَة ، 2 : 278)

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہوo

ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَo

(الْبَقَرَة ، 2 : 279)

پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، (اِس صورت میں) نہ تم خود ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گاo

اسی طرح بکثرت آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ سے بغیر شک و شبہ سود کی حرمت ثابت ہے۔

نوٹ : سود سے مراد وہ اضافہ ہے جو قرض مال یا رقم پر لیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی کو 1000 روپے دیے اور رقم 1100 روپے کا مطالبہ کرے یعنی اصل مال سے زیادہ لینا سود ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-05-10


Your Comments