کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟

سوال نمبر:94
کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  عقائد  |  عقائد  |  علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

جواب:
جی ہاں! علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے کیونکہ قرآن حکیم کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کی خبر دی تو اس باب میں ارشاد فرمایا :

ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ.

يوسف، 12 : 102

’’یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ علم غیب وحی کے ذریعے عطا ہونے کے بعد بھی قرآنی اصطلاح میں ’’غیب‘‘ ہی کہلاتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟