کیا نانی کا دودھ پینے والے کا رشتہ اپنی خالہ زاد سے ہو سکتا ہے؟

سوال نمبر:921
میرا سوال رضاعت کے بارے میں ہے۔ ایک بچے نے چھ ماہ کی عمر میں اپنی نانی کا دودھ پییا تھا جو اپنی بچی کو بھی اس وقت دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی تین بہنیں ش ، ز ، ک ہیں۔

1۔ کیا اس کا رشتہ ش کی بیٹی سے ہو سکتا ہے؟

2۔ کیا اس کے بھائی اور بہن بھی اس سے متاثر ہوں گے؟

3۔ کیا اس کے بھائی کا رشتہ ش کی بیٹی سے ہو سکتا ہے؟

  • سائل: سلیم احمدمقام: ریاض، سعودی عرب
  • تاریخ اشاعت: 25 اپریل 2011ء

زمرہ: نکاح   |  احکام رضاعت

جواب:
بچے نے اپنی نانی کا دودھ پیا تھا لہذا نانی کی تمام اولاد اس بچے کے بھائی اور بہن ہیں۔ اس کا رشتہ ش کی بیٹی سے نہیں ہو سکتا اس لیے کہ یہ اس کی بھانجھی ہے۔ اگرچہ نسب کی وجہ سے رشتہ میں خالہ کی بیٹی ہے مگر رضاعت کی وجہ سے بھانجھی بن گئی اور بھانجھی سے نکاح حرام ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے :

يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب. (او کما قال)

نسب سے جو رشتے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔

اس کے بھائی اور بہن جنہوں نے دودھ نہیں پیا ہے وہ متاثر نہیں ہونگے اور اس کے بھائی کا رشتہ ش کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟