Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا عصر کی نماز میں ہمیں حنابلہ کی اقتداء کرنی چاہیے یا نہیں؟

کیا عصر کی نماز میں ہمیں حنابلہ کی اقتداء کرنی چاہیے یا نہیں؟

موضوع: زکوۃ  |  نماز کے اوقات

سوال پوچھنے والے کا نام: ابو جنید       مقام: سعودی عرب

سوال نمبر 868:
عصر کی نماز کا وقت حنابلہ کے نزدیک ہمارے وقت سے جلدی شروع ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں عصر کی نماز اکیلے پڑھنی چاہیے یا ان کے ساتھ جماعت میں شامل ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ جماعت کے بعد مساجد بند ہوجاتی ہیں؟

جواب:
احناف کے نزدیک جب ہر چیز کا سایہ دو چند ہو جائے تو نماز عصر کا وقت داخل ہو جاتا ہے، اس سے پہلے نماز ظہر کا وقت ہوتا ہے۔

لہذا اگر فقہ حنبلی کی پیروکار نماز عصر جلد ادا کرلیتے ہیں تو آپ ان کے ساتھ نماز عصر ادا نہ کریں کیوں کہ فقہ حنفی کے مطابق نماز عصر کا تو وقت ہی ابھی شروع نہیں ہوا۔ چونکہ آپ کے ہاں نماز کے بعد مساجد بند ہوجاتی ہیں اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے گھر کے کسی حصہ کو مسجد مقرر کر لیں اور وہاں پر نماز پڑھ لیں۔ اگر آپ دو تین یا زیادہ افراد ہیں تو باجماعت نماز بھی پڑھ سکتے ہیں۔ دو افراد کی نماز بھی ہوجاتی ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًاo

بیشک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہےo

(النِّسَآء ، 4 : 103)

چونکہ نمازوں کے اوقات میں اوقات فرض ہیں اس لیے وقت سے پہلے نہیں پڑھنی چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-04-13


Your Comments