Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کسی ایسے نمازی کی اقتداء جائز ہے جو پہلے سے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو؟

کیا کسی ایسے نمازی کی اقتداء جائز ہے جو پہلے سے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  زکوۃ  |  نماز با جماعت   |  نفلی نمازیں

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اکرم سعیدی       مقام: جدہ، سعودی عرب

سوال نمبر 753:
یہاں سعودی عرب میں عام رواج ہے کہ اگر باجماعت نماز ہوچکی ہو تو بعد میں آنے والا اگر ایک آدمی بھی ہو تو وہ اکیلا ہی جماعت شروع کر لیتا ہے اور بعد میں آنے والے لوگ اس کے پیچھے جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات اس میں کچھ پیچیدگی بھی پیدا ہوجاتی ہے، مثلاً :

  1. کوئی آدمی سنت یا نفل نماز پڑھ رہا ہوتا ہے مگر پیچھے سے آنے والے لوگ اس کے کندھے پر ہاتھ سے اشارہ کرکے اس کے پیچھے فرض نماز کی جماعت شروع کر لیتے ہیں۔
  2. سفر کے دوران تو اور بھی دلچسپ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ امام عشا کی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے جبکہ مقتدی اس کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔

براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس طرح کے اعمال کرنے کی حیثیت واضح فرما دیں۔ کیا اکیلے آدمی کا جماعت شروع کر لینا درست ہے؟ اور کیا یہ جانے بغیر کہ امام کون سی نماز پڑھ رہا ہے، پیچھے آنے والوں کو اس کی اقتدا میں کھڑے ہونا درست ہے؟

جواب:

اکیلا جماعت کرانا درست نہیں ہے البتہ اگرہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اور پیچھے کوئی آکر کھڑا ہوگیا تو اسی وقت جماعت کی نیت کر لینی چاہیے۔ اگر بندہ اکیلا ہو تو وہ امام کے دائیں طرف کھڑا ہوجائے، پھر جب دوسرا شخص آ جائے  تو پہلے والا پیچھے ہوجائے تاکہ صف بن جائے، یہ درست ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کی نماز ایک ہو مثلاً ظہر کا وقت ہو تو امام اور مقتدی دونوں ظہر کی نماز پڑھ رہے ہوں تو یہ درست ہے۔ امام فرض پڑھ رہا ہو اور مقتدی نفل تو یہ بھی درست ہے لیکن صرف نماز ظہر اور نماز عشاء میں۔ اس لیے کہ عصر کے بعد نفل مکروہ ہیں اور مغرب کی تین رکعتیں ہوتی ہیں، نفل کی تین رکعتیں جائز نہیں۔ اگر امام صاحب نفل، سنت یا وتر پڑھ رہے ہوں تو اس کے پیچھے فرض نماز نہیں ہوتی۔ اسی طرح دونوں ادا نماز پڑھ رہے ہوں، یہ نہ ہو کہ امام قضا نماز پڑھ رہا ہو اور مقتدی ادا نماز پڑھ رہا ہو۔ قضا اور ادا ایک ساتھ درست نہیں، البتہ اگر دونوں کی نماز قضا اور ایک وقت کی ہو تو درست ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-11


Your Comments