کیا تین وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنا رسول اللہ (ص) سے ثابت ہے؟

سوال نمبر:5873
السلام علیکم مفتی صاحب! مسلم شریف کی حدیث کے مطابق 3 وتر پڑھنے کے رسول اللہ نے دو طریقے بتائے ہیں: وتر دو قعدہ دو سلام یا ایک قعدہ ایک سلام کے ساتھ۔ ہم حنفی ان دونوں طریقوں سے الگ کیوں پڑھتے ہیں؟

  • سائل: عزاممقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 15 ستمبر 2020ء

زمرہ: نماز وتر

جواب:

مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں وتر سنت مؤکدہ اور شوافع کے ہاں سنت ہیں۔ اور ان تینوں آئمہ کے ہاں تین وتر دو سلام کے ساتھ پڑھنا جائز ہے جبکہ احناف کے ہاں تین وتر واجب ہیں اور ان کو ایک سلام کے ساتھ پڑھنا مسنون ہے۔ مسلم شریف اور دیگر کتب کی جن احادیث مبارکہ سے آئمہ ثلاثہ تین وتر دو قعدوں اور دو سلام کے ساتھ پڑھنے یا صرف ایک ہی وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کا استدلال کرتے ہیں، آئمہ احناف کے ہاں ایسی تمام روایات اس معنی پر محمول ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ایک رکعت الگ نہیں بلکہ دوگانہ سے ملی ہوئی ہوتی تھی۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى.

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق دريافت كيا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت اور پڑھ لے تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔

  1. البخاري، الصحيح، كتاب الوتر، باب ما جاء في الوتر، 1: 337، الرقم: 946، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة من آخر الليل، 1: 509، الرقم: 749، بيروت: دار إحياء التراث العربي

یہ متفق علیہ حدیث مبارکہ ہے، آئمہ احناف اس حدیث مبارکہ سمیت ایسی تمام روایات سے مراد لیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہجد کی دو دو رکعات کر کے پڑھنے کی ترغیب فرمائی ہے اور جب صبح یعنی فجر کا وقت شروع ہونے کا اندیشہ ہو تو آخر میں دو رکعات کے ساتھ ایک اور ملا کر وتر (طاق) بنا دے جبکہ باقی آئمہ انہی روایات سے ایک رکعت الگ مراد لیتے ہیں۔ آئمہ احناف درج ذیل حدیث مبارکہ سے بھی دلیل پکڑتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین وتر ادا فرماتے تھے:

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا.

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔

  1. البخاري، الصحيح، كتاب التهجد، باب قيام النبي صلى الله عليه وسلم بالليل في رمضان وغيره، 1: 385، الرقم: 1096
  2. مسلم، الصحيح، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله عليه وسلم، 1: 509، الرقم: 738

چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد گھر میں ادا فرماتے تھے اس لیے مذکورہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہونے کی وجہ سے قوی دلیل ہے کیونکہ گھر کے معاملات گھر والی سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اسی طرح ایک روایت ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ، فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز کی دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت اور پڑھ لو۔ یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔

اس حدیث کے رواۃ میں سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہما کا ایک بیان ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَكْنَا يُوتِرُونَ بِثَلاَثٍ، وَإِنَّ كُلًّا لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لاَ يَكُونَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بَأْسٌ.

قاسم نے فرمایا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نے لوگوں کو تین وتر پڑھتے ہوئے دیکھا اور ہر طریقے کے اندر وسعت ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسی طریقے میں بھی مضائقہ نہیں ہو گا۔

البخاري، الصحيح، كتاب الوتر، باب ما جاء في الوتر، 1: 337، الرقم: 948

اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی کثیر روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی تین رکعات کے درمیان میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل روایات میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں کی پہلی دو رکعتوں میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔

امام حاکم رحمہ اللہ اس حدیث مبارکہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ.

یہ حدیث شیخین (امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ) کی شرطوں پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے نہیں لیا۔

الحاكم، المستدرك على الصحيحن، كتاب الوتر، 1: 446، الرقم: 1139، بيروت: دار الكتب العلمية

اس سے اگلی حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ. وَهَذَا وِتْرُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْهُ أَخَذَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر بڑھتے ان میں سے آخری رکعت میں سلام پھیرتے تھے۔ یہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے وتر تھے، اہل مدینہ نے یہ طریقہ انہی سے سیکھا تھا۔

الحاكم، المستدرك على الصحيحن، كتاب الوتر، 1: 447، الرقم: 1140

دیگر کتب میں بھی یہ روایت ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوَتْرِ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔

  1. ابن أبي شيبة، المصنف، 2: 91، الرقم: 6842، الرياض: مكتبة الرشد
  2. الدار قطني، السنن، 2: 32، الرقم: 7، بيروت: دار المعرفة
  3. البهقي، السنن الكبرى، 3: 31، الرقم: 4592، مكة المكرمة: مكتبة دارالباز

درج ذیل حدیث مبارکہ بھی وتر کی تعداد تین ہونے اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنے پر قوی دلیل ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وِتْرُ اللَّيْلِ ثَلَاثٌ كَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دن کے وتروں یعنی نمازِ مغرب کی طرح رات کے وتروں کی بھی تین رکعات ہیں۔

الدار قطني، السنن، 2: 27، الرقم: 1

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ اور ان جیسی دیگر روایات احناف کے موقف پر دلالت کرتی ہیں جن کی بنیاد پر احناف تین وتر دو قعدوں اور ایک سلام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس قدر کثیر احادیث مبارکہ نقل کرنے کے بعد اس موضوع پر کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اپنے موقف کی تائید کے لیے صرف امام سرخسی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

أَنَّ الْوِتْرَ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ لَا يُسَلِّمُ إلَّا فِي آخِرِهِنَّ عِنْدَنَا إِلَى قَوْلِهِ وَلَنَا حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا كَمَا رَوَيْنَا فِي صِفَةِ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَبَعَثَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أُمَّهُ لِتُرَاقِبَ وِتْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّهُ أَوْتَرَ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ قَرَأَ فِي الْأُولَى سَبِّحْ اسْمَ رَبِّك الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهَكَذَا ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا حِينَ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ لِيُرَاقِبَ وِتْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَعْدًا يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ فَقَالَ مَا هَذِهِ الْبُتَيْرَاءُ لَتَشْفَعَنَّهَا أَوْ لَأُوذِيَنَّكَ وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ ؛ لِأَنَّ الْوِتْرَ اُشْتُهِرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْبُتَيْرَاءِ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَاَللَّهِ مَا أَخَّرْت رَكْعَةً قَطُّ وَلِأَنَّهُ لَوْ جَازَ الِاكْتِفَاءُ بِرَكْعَةٍ فِي شَيْءٍ مِنْ الصَّلَوَاتِ لَدَخَلَ فِي الْفَجْرِ قَصْرٌ بِسَبَبِ السَّفَرِ.

وتر میں تین رکعات ہیں جن میں ہمارے نزدیک صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے گا۔ ہماری دلیل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس کو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت قیام میں بیان کر چکے ہیں، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ رکعت پڑھنے کے بعد تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے مشاہدہ کے لیے بھیجا تو انہوں نے آ کر بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین رکعت وتر پڑھے پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى پڑھی، دوسری میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور رکوع میں جانے سے پہلے دعائے قنوت پڑھی۔ اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا۔ جب انہوں نے جب انہوں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے مشاہدہ کے لیے رات گزاری۔ اور جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر پڑھتے دیکھا تو فرمایا یہ تم کیسی دم بریدہ نماز پڑھتے ہو یا تو دوگانہ نماز پڑھو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وجہ سے کہی تھی کہ یہ بات مشہور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم دم بریدہ (ایک رکعت) نماز سے منع فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا میں ایک رکعت نماز کو ہرگز کافی نہیں سمجھتا نیز اگر ایک رکعت نماز مشروع ہوتی تو سفر کی وجہ سے فجر کی نماز کو قصر کر کے ایک رکعت نماز پڑھنا جائز ہوتا۔

السرخسي، المبسوط، باب القيام في الفريضة، 1: 164، بيروت: دار المعرفة

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ وتر کی تعداد اور ادائیگی کا طریقہ دونوں احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمامین کے مطابق احناف کا طریقہ سنت کے عین مطابق ہے۔ صحیح مسلم شریف کی جن احادیث مبارکہ سے آئمہ ثلاثہ نے وتر دو قعدوں اور دوسلام کے ساتھ ادا کرنا اخذ کیا ہے، فقہاء احناف نے انہی احادیث مبارکہ سے تین وتر ایک سلام کے ساتھ ثابت کئے ہیں، لہٰذا نماز وتر کی ادائیگی میں احناف کا طریقہ بھی احادیث مبارکہ سے الگ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟