سچی گواہی دیتے ہوئے قرآنِ مجید پر حلف دینا کیسا ہے؟

سوال نمبر:5798
السلام علیکم مفتی صاحب! ہمارے ہمسائے میں دو گروپوں کی لڑائی ہوئی اور بات ہتھاپائی سے ہوتے ہوئے فائرنگ تک جا پہنچی۔ فریقین ایک دوسرے کو دھمکانے کے لیے ہوائی فائرنگ کر رہے تھے۔ دونوں کے مال مویشی بھی بندھے ہوئے تھے، اور فائرنگ سے ڈر کر ایک بھنیس نے اپنی رسی توڑنے اور بھاگنے کی کوشش کی اور خود کو زمین پر پٹخ دیا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ جن کی یہ بھینس تھی انہوں نے اس کی ہلاکت کا الزام فریقِ ثانی پر لگایا کہ ان کی فائرنگ سے بھینس کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ وہ لوگ کہتے رہے کہ بھینس ہماری فائرنگ کی زد میں نہیں آئی۔ فریقین نے سائل کو معتبر سمجھتے ہوئے اس سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی اور مدعی فریق کا کہنا تھا کہ اگر سائل ہمیں تسلی دے دیں کہ بھینس مدعیٰ علیہ فریق کی فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوئی تو ہم یقین کر لیں گے اور اپنا دعویٰ واپس لے لیں گے۔ سائل نے مدعیٰ علیہ فریق سے پوچھ گچھ کی، جنہوں نے حلفاً انکار کیا اور کہا کہ بھینس ان کی فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوئی۔ مکمل تسلی کر لینے کے بعد سائل نے مدعی فریق کو حلف دیا کہ بھینس مدعیٰ علیہ فریق کی فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوئی۔ مفتی صاحب! اس واقعہ کو کئی سال گرز چکے ہیں، اب سائل کئی طرح کی مالی، جسمانی اور نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہے اور اسے وسوسہ ہوتا ہے کہ شائد اس حلف کی وجہ سے مجھے ان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سائل نے مکمل تحقیق کرنے کے بعد محض اخلاص سے حلف دیا تھا مگر اب کشمکش ہے کہ شائد وہ سچ تھا یا نہیں تھا، یا اگر سچ بھی تھا تو مجھے قرآنِ مجید پر حلف دینا چاہیے بھی تھا یا نہیں۔ مفتی صاحب آپ سے التماس ہے کہ اولاً تو اس واقعہ کے متعلق شرعی حکم بتائیں اور ثانیاً ان وساوس سے نکلنے کے لیے کوئی وظیفہ بتا دیں۔ جزاک اللہ

  • سائل: حافظ خضر حیات گوندلمقام: کوٹ مومن
  • تاریخ اشاعت: 18 اگست 2020ء

زمرہ: قسم اور کفارہ قسم

جواب:

آپ کے دریافت کردہ مسئلے کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا لینا چاہیے کہ اس نوعیت کے مسائل کا فیصلہ کرنے کی بابت شریعت نے کیا اصول دیا ہے۔ شرعی قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی ایسا تنازعہ ہو جائے تو مدعی (دعویٰ کرنے والا) اپنے دعویٰ کے حق میں ثبوت پیش کرے گا اور مدعیٰ علیہ (جس کے خلاف دعویٰ کیا جائے) اگر لگنے والے الزامات سے انکاری ہے تو قسم دے گا اور اسی پر فیصلہ ہوگا۔ حضرت ابن ابی مُلَیکہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ:

کَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ قَضَی بِالْيَمِينِ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَيْهِ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا کہ نبی کریم نے مدعیٰ علیہ کی قسم پر فیصلہ فرمایا۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الشهادات، باب اليمين على المدعى عليه في الأموال والحدود، 2: 949، الرقم: 2524، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب الأقضية، باب اليمين على المدعى عليه، 3: 1336، الرقم: 1711، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

ایک روایت میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے، ایک مقام حضرموت سے اور دوسرا کندہ سے۔ حضرمی نے کہا یا رسول اللہ! اس شخص (کندی) نے میرے باپ کی طرف سے ملی ہوئی زمین کو مجھ سے چھین لیا، کندی نے کہا وہ میری زمین ہے اور میرے تصرف میں ہے میں اس میں زراعت کرتا ہوں، اس شخص کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

فَلَکَ يَمِينُهُ قَالَ: يَا رَسُولَ ﷲِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَی مَا حَلَفَ عَلَيْهِ. وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَيْسَ لَکَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِکَ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ. فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ، لَمَّا أَدْبَرَ أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالِهِ لِيَاْکُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ ﷲَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ.

پھر اس (کندی) شخص کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ حضرمی نے کہا یا رسول اللہ! یہ جھوٹا ہے، جھوٹ پر قسم اٹھا لے گا، یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے۔ جب کندی قسم کھانے کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس شخص نے اس کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو اللہ سے جب ملاقات کرے گا اور وہ اس سے ناراض ہو گا۔

  1. مسلم، الصحيح، كتاب الإيمان، باب وعيد من اقتطع حق المسلم بيمين فاجرة بالنار، 1: 123، الرقم: 139
  2. ابو داؤد، السنن، كتاب الأيمان والنذور، باب فيمن حلف يمينا ليقتطع بها مالا لأحد، 3: 221، الرقم: 3245

مذکورہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ مدعی ثبوت پیش کرے، اگر ثبوت نہ ہو تو مدعیٰ علیہ قسم یا حلف دے گا۔ مدعیٰ علیہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتا ہے یعنی حلف دے سکتا ہے۔

صورت مسئلہ کے مطابق جب مدعی کے پاس کوئی ثبوت یا گواہ نہیں تھا کہ بھینس فائرنگ سے ہلاک کوئی ہے تو پھر مدعیٰ علیہ کے حلف پر ہی فیصلہ ہونا تھا۔ اگر واقعی بھینس مدعیٰ علیہ فریق کی فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوئی تھی تو سائل کا حلف دینا درست تھا اور شرعاً جائز بھی تھا، اس کے برعکس اگر بھینس فائرنگ سے ہی ہلاک ہوئی تھی اور سائل نے محض مدعیٰ علیہ فریق کو بچانے کے لیے جھوٹا حلف دیا ہے تو اس نے ناجائز کام کیا، قرآنِ کریم کا جھوٹا حلف دینا کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ بقول سائل کے اس نے میں مکمل تحقیق کی تھی اور اسے یقین تھا کہ بھینس فائرنگ سے ہلاک نہیں ہوئی تھی اور اس نے چھان بین کے بعد ہی حلف دیا تھا تو اسے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے کوئی ناجائز کام نہیں کیا، سچی گواہی یا سچا حلف دینا بالکل جائز ہے۔

وسوسوں سے بچنے کے لیے نماز پنجگانہ کی پابندی کریں، تعّوذ (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) اور درود و سلام کی کثرت کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟