Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا؟

کیا روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا؟

موضوع: عبادات  |  روزہ

سوال نمبر 561:
کیا روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا؟

جواب:

جی ہاں! روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا جیسا کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

 البقرة، 2 :  183

اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤo

مذکورآیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا۔ کتبِ حدیث و تاریخ اور تورات و انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قریشِ مکہ ایامِ جاہلیت میں دسویں محرم کو اس لئے روزہ رکھتے تھے کہ اس دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا۔

بخاری، الصحيح، کتاب الحج، باب قول اﷲ : جعل اﷲ الکعبة البيت الحرام، 2 : 578، رقم : 1515

مدینہ میں یہود اس دن اس لئے روزہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو اس دن فرعون سے نجات دی تھی۔

بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب صيام يوم عاشوره، 2 : 704، رقم : 1900

ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل اُمم میں بھی بحیثیت عبادت کے روزہ معروف اور جانا پہچانا جاتا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا آف جیوز میں لکھا ہوا ہے:

یہودی اور عیسائی روزہ بطور کفارہ گناہ یا توبہ کی خاطر یا پھر ان سے بھی تنگ تر مقاصد کے لئے رکھتے تھے اور ان کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا، یا پھر قدیم تر ایام میں روزہ ماتم کے نشان کے طور پر رکھا جاتا تھا۔

یعنی ان لوگوں نے روزے کی اصل مقصدیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے اپنے مخصوص مفادات کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا مگر اسلام نے انسانیت کو روزے کے بامقصد اور تربیتی نظام سے آشنا کیا۔

یہ اسلام ہی ہے جس نے مسلمانوں کو روزے پر وسیع دائرہ ہائے کار اور بلند اغراض و مقاصد عطا کئے۔ زندگی کی وہ تمام تمنائیں اور خواہشات جو عام طور پر جائز ہیں روزہ میں ان پر بھی کچھ عرصہ کے لئے پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اطاعت گزار اُمتی ان پابندیوں کو دلی رغبت و مسرت کے ساتھ اپنے اوپر عائد کرلیتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ جسم و روح دونوں کے لئے مفید ہے۔

علاوہ ازیں مختلف مذاہب میں روزہ رکھنے کے مکلف بھی مختلف طبقات ہیں۔ مثلاً پارسیوں کے ہاں صرف مذہبی پیشوا، ہندوؤں میں برہمن اور یونانیوں کے ہاں صرف عورتیں روزے رکھنے کی مکلف ہیں، جبکہ ان کے اوقاتِ روزہ میں بھی اختلاف اور افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ لیکن اسلام کے پلیٹ فارم پر دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے عاقل، بالغ اور مسلمان مرد و عورت کے لئے ایک ہی وقت میں ماہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments