Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

موضوع: عبادات  |  روزہ

سوال نمبر 555:
لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

جواب:

:  روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں شرع کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم سے ثابت ہے :

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَنَ لَکُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ۔

 البقرة، 2 :  187

’’(روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت) اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔‘‘

سفید دھاگے سے مراد صبح صادق (دن کی سفیدی) ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد صبح کاذب (رات کی تاریکی) ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments